بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

فون پر نکاح کا حکم

فون پر نکاح کا حکم

سوال

 حضرت یہاں پر ایک مسئلہ پیش آیا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک لڑکا او رلڑکی آپس میں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے، لڑکا سعودی عرب میں مقیم ہے اور لڑکی دوسرے ملک میں ہے ، لڑکی کا والد راضی ہے لیکن والدہ راضی نہیں ہے، لہٰذا لڑکی نے چھپ کے فون پر نکاح کر لیا ہے اور نکاح کرتے وقت لڑکے کے ساتھ دوگواہ بھی موجود تھے،ا لبتہ نکاح پڑھانے والا بھی عالم دین ہے، لہٰذا علمائے کرام اور مفتیان حضرات کیا کہتے ہیں شریعت میں اس مسئلہ کے بارے میں ،اس کے لیے جامعہ فاروقیہ کے دارالافتاء سے تصدیق شدہ ایک فتوی چاہیے۔ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔

جواب

نکاح کے منعقد ہونے کے لیے مجلس عقد میں گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کرنا شرط ہے، جس کے لیے ضروری تھا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں اس مجلس میں موجودہوتے یا دونوں یا ان میں سے کسی ایک کی طرف سے وکیل بالنکاح موجود ہوتا، جب کہ صورتِ مسئولہ میں اس طرح نہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں مجلس ایک نہ ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں ہوا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی