بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

فلمیں دیکھنے میں زیادہ گناہ ہے یا کارٹون؟

فلمیں دیکھنے میں زیادہ گناہ ہے یا کارٹون؟

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کے دور میں فلمیں اور کارٹون دیکھنا بہت عام ہو چکا ہے اور دونوں میں سخت گناہ ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگ کارٹون ویڈیو اگر خود دیکھ رہے ہوں، اس کے بچے دیکھتے ہوں، اس میں کوئی گناہ نہیں سمجھتے ہیں او رکہتے ہیں کہ کارٹون دیکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے اور فلمیں دیکھنے میں کبیرہ گناہ ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں میں سخت گناہ کس میں ہے؟ کیوں کہ میں نے کسی سے سنا تھا کہ دارالعلوم دیوبند والوں نے یہ فتوی جاری کیا ہے کہ کارٹون دیکھنے کا گناہ فلموں کے دیکھنے سے زیادہ ہے؟

جامعہ ہذاکا اس مسئلہ کے بارے میں کیا فتوی ہے؟

جواب

  واضح رہے کہ فلم ہو، یا وہ کارٹون جس کا چہرہ اور دیگر اعضاء ظاہر ہوں، صرف خاکہ نہ ہو، تو یہ دونوں تصویر کے حکم میں ہیں اس لیے دونوں کا دیکھنا ناجائز اور حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی