بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

فلاحی اداروں کے لیے زکوٰة کے چند ضروری مسائل

فلاحی اداروں کے لیے زکوٰة کے چند ضروری مسائل

سوال

1.. کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام ان مسائل کے بارے میں کہ کیا فلاحی اداروں کا زکوٰة کے حصول کے لیے تشہیری ذرائع پر زکوٰة کی رقم استعمال کرنا صحیح ہے ؟
2..کیا فلاحی اداروں کے لیے معاونین افراد سے معاونت کی حیثیت( زکوٰة، خیرات اور عطیات وغیرہ) جاننا ضروری ہے؟
3..کیا فلاحی اداروں کے لیے زکوٰة کی وصولی کے لیے مستحقینِ زکوٰة کی طرف سے بحق انتظامیہ ادارہ، وکالت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے؟ (جس طرح دینی جامعات کے داخلہ فارم میں مستحق طلبہ کی طرف سے بحق انتظامیہ ادارہ، وکالت نامہ کی تحریر ہوتی ہے)
4..کیا فلاحی اداروں کے لیے زکوٰة صدقات، خیرات اور عطیات کے لیے اکاؤنٹس/ کھاتوں کی نوعیت مخلوط ہونا صحیح ہے؟
5..کیا فلاحی اداروں کے لیے زکوٰةکی تقسیم کے مرحلے میں مستحقین زکوٰة کی جانچ پڑتال ضروری ہے؟
6..کیا فلاحی اداروں کا زکوٰة کی مد سے مستحقین زکوٰة کو درج ذیل سہولیات فراہم کرنا صحیح ہے؟:
علاج معالجہ، تعلیمی وظائف، جہیز فنڈ، یتیموں کی کفالت، سیلاب وزلزلہ زد گان کی امداد، تجہیز وتکفین، خوردونوش، ملبوسات، معذوروں کے لیے آلات، فری ایمبولینس سروس، صاف پانی وغیرہ۔
7..کیا فلاحی اداروں کا تعمیرات، آلات اور آسائشی امور کے لیے زکوٰة کی رقم استعمال کرنا صحیح ہے؟
8..کیا فلاحی اداروں کا بقیہ اموالِ زکوٰة کی سرمایہ کاری کرنا صحیح ہے؟
9..کیا فلاحی اداروں کا زکوٰة کی مد سے اپنے تمام ملازمین کو تنخواہ دینا صحیح ہے؟

جواب

1.. جو فلاحی ادارے زکوٰة جمع کرتے ہیں، وہ زکوٰة کی رقم کے مالک نہیں ہوتے، بلکہ زکوٰة دینے والوں کے وکیل اور نمائندے ہوتے ہیں، جب تک ان کے پاس زکوٰة کی رقم جمع رہے گی، زکوٰة دینے والوں کی زکوٰة ادا نہیں ہوگی، فلاحی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ زکوٰة کی رقم کو صرف مسلمان فقیر، غریب ، محتاج اور ضرورت مندوں میں مالکانہ طور پر، بغیر کسی عوض کے تقسیم کریں، لہٰذا تشہیری ذرائع پر زکوٰة کی رقم استعمال کرنا صحیح نہیں ہے۔

2..معاونین حضرات سے معاونت کی حیثیت ( زکوٰة ، خیرات، عطیات وغیرہ) جاننا ضروری ہے، تاکہ ہر ایک کو اپنے مصرف میں صحیح طریقے پر خرچ کیا جاسکے۔

3..فلاحی اداروں والے حضرات صرف زکوٰة دینے والوں کے وکیل ہوتے ہیں، لہٰذا ان کو زکوٰة کی وصولی کے لیے مستحقین زکوٰة سے وکالت نامہ حاصل کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ مستحقین کی زبانی یا تحریری اجازت سے ان کی طرف سے بھی وکیل بن سکتے ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ مستحقین پر ہی زکوٰة کی رقم خرچ کریں۔

4..فلاحی اداروں(وغیرہ) میں تمام مدات کی نوعیت علیٰحدہ علیٰحدہ رہنی چاہیے اور ہر ایک کے مصارف بھی جداگانہ ہونے چاہئیں۔

5..جانچ پڑتال او را س کے مستحق ہونے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔

6..اگر ہسپتالوں میں یا کوئی ڈاکٹر مستحق زکوٰة غریبوں کو مالکانہ حیثیت سے زکوٰة کی مد سے دوا دیتے ہیں تو درست ہے اور اگر ڈاکٹری فیس زکوٰة سے دیتے ہیں تو ڈاکٹری فیس زکوٰة سے ادا کرنے کی دو صورتیں ہیں:

٭… ڈاکٹری فیس مستحق زکوٰة مریض کے ہاتھ میں دے دی جائے، تاکہ قبضہ ہو جائے، پھر اس کے بعد اس سے لے کر ڈاکٹر کو فیس کی مد میں دے دیں، یا مریض کے گھر والوں کو زکوٰة کی نیت سے دے دیں تاکہ وہ فیس جمع کرادیں۔

٭… یا ہسپتال والے زبانی یا تحریری طور پر مریض کے وکیل بن جائیں، پھر جتنی رقم کی ضرورت پڑے ہسپتال والے زکوٰة کی مد سے وکیل کے طور خرچ کریں، تو ان تمام صورتوں میں زکوٰة ادا ہو جائے گی۔

٭…جن تعلیمی اداروں میں غریب اور مسافر طلباء ہیں، ان کو زکوٰة کی مد سے وظیفہ دینا جائز ہے۔

٭… اگر جہیز نقد رقم یا شرعاً جائز استعمال والی چیزوں کی صورت میں ہو ،رسم ورواج کے طورپر نہ ہو اور پھر وہ جہیز کسی مستحق زکوٰة کو مالک بنا کر دے دے تو جائز ہے۔

٭… اگر یتیم مسلمان ہے، غریب او رمحتاج ہے، نصاب کا مالک نہیں ہے، تو اس کو زکوٰة دینا اور زکوة کی رقم سے اس کی کفالت کرنا، بشرط کہ اس کو زکوٰة کی رقم کا مالک بنا دے، تو یہ جائز ہے۔

٭… اگر زلزلہ یا سیلاب زدگان مسلمان ہیں، زلزلہ یا سیلاب کی وجہ سے فقیر وغریب ہوگئے، نصاب کے مالک نہیں رہے تو ان کو زکوٰة دینا جائز ہے، بلکہ ایسے مخصوص حالات میں ایسے لوگوں کو دوسرے لوگوں پر ترجیح دینی چاہیے او راگر غیر مسلم ہیں تو ان کو زکوٰة دینا جائز نہیں ہے، البتہ زکوٰة کے علاوہ نفلی صدقات سے ان کی مدد کرنا جائز ہے او راگر مسلم وغیرمسلم دونوں شامل ہیں، تو زکوٰة کی رقم صرف مسلمانوں کو ملنے کی صورت یقینی نہیں ہے، لہٰذا ایسے مواقع میں احتیاط کی جائے۔

٭…زکوٰة کی رقم سے کسی بھی میت کی تجہیز وتکفین کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ زکوٰة کا مستحق ہونے کے لیے فقیر ومحتاج کا زندہ ہونا ضروری ہے، مردے پر زکوٰة کی رقم خرچ کر دینے سے زکوٰة ادا نہیں ہو گی۔

٭… اگر زکوٰة کی رقم سے خورد ونوش کا سامان لے کر کسی مستحق آدمی کو مالک بنا کر دے دیا جائے یا اگر کھانا پکا کر کسی مستحق زکوٰة آدمی کو دے دیا جائے اور اس کو اختیار ہو کہ وہ اس کھانے کو گھر لے جائے او رجس کو چاہے کھلائے، تو یہ تملیک ہے اس سے زکوٰة ہو جائے گی او راگر زکوٰة کی رقم سے کھانا پکا کر، غریبوں کو بٹھا کر ،دعوت کے طریقے پرکھلایا جائے، تو اس سے زکوٰة ادا نہیں ہو گی، کیوں کہ دعوت میں ملکیت نہیں ہوتی، جب کہ زکوٰة کی ادائیگی کے لیے تملیک بنیادی شرط ہے۔

٭… اگر زکوٰة کی رقم سے کپڑے خرید کر کسی مستحق آدمی کو مالک بنا کر دے دیے جائیں ، تو یہ تملیک ہے، اس سے زکوٰة ادا ہو جائے گی۔

٭… اگر زکوٰة کی رقم سے معذور لوگوں کے لیے آلات خرید کر ان کو مالک بنا کر دے دیے جائیں تو یہ صحیح ہے بشرط کہ وہ معذور آدمی مستحق زکوٰة ہوں۔

٭… زکوٰة کی رقم سے فری ایمبولینس سروس کی خدمت مہیا کرنا جائز نہیں ہے۔

٭… زکوٰة کی رقم سے مستحقین زکوٰة کے لیے صاف پانی کی سہولت فراہم کرکے، ان کو اس پانی کا مالک بنا دیا جائے تو یہ صحیح ہے، ورنہ نہیں۔

7..زکوٰة کی رقم تعمیرات، آلات اور آسائشی امور میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کسی مستحق زکوٰة کو زکوٰة کی رقم کا مالک بنا دیا جائے تو اس کے بعد جائز ہے۔

8..زکوٰة کے بقیہ اموال سے سرمایہ کاری کرنا صحیح نہیں ہے ۔

9..ملازمین کی تنخواہ زکوٰة سے جائز نہیں ہے ، کیوں کہ زکوٰة کی رقم بلاعوض (مفت میں) مالک بنا کر دینا ضروری ہے، جب کہ یہاں پر تنخواہ عوض میں ملتی ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی