بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیر برادری میں شادی کرنے پر بائیکاٹ کرنا کیسا ہے؟

غیر برادری میں شادی کرنے پر بائیکاٹ کرنا کیسا ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام قرآن وسنت کی روشنی میں مندرجہ ذیل سوال کے بارے میں کہ ناگوری جماعت نے دستور العمل کے نام سے ایک کتابچہ مرتب کیا ہے، جس میں سماجی رسم ورواج کی حدود متعین کی گئی ہیں، اس طرح اس میں ایک شق جس کا نمبر”222“ ہے ،کہا گیا ہے:

”ناگوری جماعت کا کوئی فرد ناگوری جماعت کی پیشگی اجازت کے بغیر غیر برادری میں شادی نہیں کرسکتا ہے، خلاف ورزی کی صورت میں پانچ سال دیگ پابندی ہو گی، یعنی اس عرصے میں خلاف ورزی کرنے والے کو برادری کی کسی تقریب میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی اس تقریب برادری کا کوئی فرد شرکت کرے گا، اگر کسی نے شرکت کی یا اپنی تقریب میں شریک کیا تو وہ بھی سزا کا حق دار ہو گا، سہولت کار یعنی برادری سے باہر رشتہ کرنے والے کوبھی سزا بھگتنا ہو گی، آنے والی بہو ،جانے والی بیٹی دس سال تک برادری سے خارج سمجھی جائے گی، یعنی بیٹی اپنے والدین سے نہیں مل سکے گی اور نہ بہو اپنی سسرالیوں سے مل سکے گی“۔

میں اپنے بیٹے کا رشتہ ناگوری برادری سے باہر کرنا چاہتا ہوں بیٹے کی خواہش پر، لڑکی والے بھی رضا مند ہیں۔

میری اپنی کوشش تھی کہ میرا بیٹا برادری میں شادی کر لے، مگر وہ اپنی ضد پر قائم ہے، الحمد لله! میرے آٹھ بیٹے ہیں، پانچ برادری میں ہی بیا ہے ہیں، چھٹے کا رشتہ بھی برادری میں ہی ہوا ہے، آٹھواں ابھی چھوٹا ہے، میں نے برادری سے درخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی۔

واضح رہے کہ ناگوری برادری کی ایک مجلس عاملہ ہے جس کے بیس پچیس ممبرز ہیں، اب میں بیٹے کی شادی کروں گا تو میرے ساتھ جو بھی اس نکاح یا ولیمے میں شامل ہو گا اُسے بھی سزا بھگتنی ہو گی جو چھ ماہ تک ہو سکتی ہے۔

معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا یہ عمل شریعت کی رو سے کیسا ہے؟اور برادری کا یہ قانون قرآن وسنت کے مطابق کیسا ہے؟ اگر درست ہے تو ٹھیک ہے، اگر درست نہیں ہے تو اس پر عمل کرانا یا کرنا کیسا ہے؟

جواب

نکاح ایک ایسا معاملہ ہے جس میں اگر میاں بیوی کی طبیعتوں میں موافقت نہ ہو تو مقاصد نکاح اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے میں خلل آتا ہے اور لڑائی جھگڑے کی فضا پیدا ہوتی ہے، اس لیے شریعت میں کفاء ت ، یعنی باہمی مماثلث کی رعایت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

البتہ نکاح کے لیے برادری کی شرط لگانا انتظامی اُمور میں سے ہے، تاکہ زوجین میں ہم مزاجی اور ہم فکری پائی جائے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسری برادری میں رضا مندی کے باوجود بھی نکاح کرنا بُرا ہے، کیوں کہ اگر فریقین راضی ہوں تو برادری سے باہر نکاح کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اس کو بُرا سمجھنا بھی غلط ہے او راس کی وجہ سے برادری کا بائیکاٹ کرنا بھی درست نہیں۔

بناء بریں صورت ِ مسئولہ میں چو ں کہ لڑکا، لڑکی او ران کے اولیاء (سرپرست) غیر برادری میں نکاح پر راضی ہیں، لہٰذا مذکورہ نکاح شریعت کی رو سے جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی