بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیر آباد زمین کے مالک کے لیے زکوٰة لینے کا حکم

غیر آباد زمین کے مالک کے لیے زکوٰة لینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی کی قوم کے ساتھ مشترکہ غیر آباد بنجر زمین ہے، ایسی زمین کے ہوتے ہوئے اس آدمی کے لیے زکوٰة لینا جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر یہ زمین مشترکہ نہ ہو یا مشترکہ ہو لیکن متنازع فیہا ہو اور ملنے کا قوی امکان نہ ہو تو حکم میں فرق پڑتا ہے؟ الگ الگ حکم بیان کیا جائے۔

جواب

واضح رہے کہ زمین اگر بنجر اور غیر آباد ہو، اس سے کوئی نفع حاصل نہ ہوتا ہو تو ایسی زمین کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، اس کی قیمت اگر بقدرِ نصاب زکوٰة ہے تو اس زمین کے مالک کے لیے زکوٰة لینا جائز نہیں او راگر اس کی قیمت بقدرِ نصاب زکوٰة نہیں تو اس کے مالک کے لیے زکوٰة لینا جائز ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اس شخص کی ملکیت میں پوری یا اس کے حصے کی موجودہ غیر متنازع بنجر اور غیر آباد زمین کی قیمت اگر بقدرِ نصاب زکوٰة ہے تو اس کے لیے زکوٰة لینا جائز نہیں ،او راگر اس کی قیمت بقدرِ نصابِ زکوٰة نہیں ہے تو اس کے لیے زکوٰة لینا جائز ہے۔ نیز اگر یہ زمین متنازع ہو، جس کے ملنے کاقوی امکان نہ ہو تو ایسی زمین کا مالک بھی زکوٰة لے سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی