بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غربت، تنگ دستی اور تربیت کی خاطر خاندانی منصوبہ بندی کا حکم

غربت، تنگ دستی اور تربیت کی خاطر خاندانی منصوبہ بندی کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل کے حالات او رمہنگائی کے دور میں زیادہ بچوں کی صورت میں ان کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے جو مسائل پیش آتے ہیں ان کا دین میں کیا حل موجود ہے ؟ کیوں کہ رزق کی ذمہ داری تو یقینا الله تعالیٰ نے لی ہے، لیکن تعلیم وتربیت کے سلسلے میں ضرور مسائل پیش آتے ہیں، اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے؟ نیز ایک امیر انسان جس کے پاس وسائل موجود ہیں، وہ تو زیادہ بچوں کے بوجھ کو اٹھاسکتا ہے اور اچھی تعلیم وتربیت دے سکتا ہے، لیکن اگر ایک محدود وسائل والا غریب شخص زیادہ بچوں کی صورت میں ان کی مناسب دیکھ بھال اور تعلیم وتربیت نہ کرسکا تو کیا اس شخص کو آخرت میں جواب دہی سے گذرنا پڑے گا؟ اور اس پر ان کا وبال ہو گا؟

جواب 

بچے خواہ کم ہوں یا زیادہ، انسانی ضروریات کو پوری کرنے والی ذات صرف الله جل شانہ کی ہے ۔ انسان سے صرف مقدور بھر محنت اور جدوجہد مطلوب ہے، آپ بجائے تحدید نسل کے تکثیر ذرائع کا راستہ اپنائیں، اگر ان خدشات اور پریشانیوں کی” جو کہ مغرب کے پروپیگنڈے کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں عام ہو گئی ہیں“ کوئی حیثیت ہوتی، تو امت کے خیر خواہ اورمحسن ،رسول الله صلی الله علیہ وسلم عرب کے ریگستانوں میں رہنے والوں ( جہاں کثرتِ آبادی یہاں کی بنسبت کئی گنا زیادہ سنگین ثابت ہوسکتی تھی) کو ضرور تحدید آبادی کا مشورہ دیتے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے نہ صرف تحدید آبادی کا مشورہ نہیں دیا، بلکہ اس سے منع فرمایا اور تکثیرِ آبادی کی ترغیب دی۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی