بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عورت کے لیے کس کس سے پردہ ضروری ہے

عورت کے لیے کس کس سے پردہ ضروری ہے

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ عورت کے لیے پردہ کس کس سے ضروری ہے؟
والد اور والدہ کے چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد، پھوپی زاد بھائی، بہنوں سے اور اسی طرح ان کی بیویوں سے پردہ کا حکم کیا ہے؟ اسی طرح ان کی بیٹیوں سے اور بیٹوں کی بیویوں سے پردہ کا حکم کیا ہے؟پھوپھی کے شوہر، اسی طرح بہن کے شوہر اور شوہر کی بہن کے شوہر سے پردہ کا حکم کیا ہے؟ اسی طرح وہ چچا زاد بہن یا خالہ زاد، ماموں زاد پھوپھی زاد جو عمر میں بہت بڑی ہے؟ شوہر کے چچا ماموں پھوپھا وغیرہ سے پردہ کا حکم کیا ہے؟ شوہر کے چھوٹے بھائی اور بڑے بھائیوں سے پردہ کا حکم کیا ہے؟ کیا اپنے چچا اپنے ماموں اپنے پھوپھا سے پردہ کرنا چاہیے کہ نہیں؟ آیا صرف اپنی بہن ،ماں، بھانجی، بھتیجی، اپنی ماسیوں، اپنی چچیوں سے پردہ نہیں ہے، یااس کے علاوہ بھی کوئی ہے؟

جواب 

واضح رہے کہ مرد یا عورت کے لیے رشتہ داروں سے پردے کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جن رشتہ داروں سے (مرد یا عورت کا ) نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے، اُن سے پردہ نہیں، مثلاً: ماں باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، بھائی، بہن، چچا ، پھوپھی ، خالہ، بیٹا ،بیٹی، پوتا، پوتی وغیرہ۔

اور جن رشتہ داروں سے نکاح جائز ہے، ان سے پردہ کرنا واجب ہے، مثلاً : چچازاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہن بھائی، پھوپھا، چچی، خالو، بہنوئی وغیرہ، اسی طرح عورت کے لیے اپنے شوہر کے ان رشتہ داروں سے پردہ نہیں ہے، جن رشتہ داروں کا عورت سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے، مثلاً:سسر، سوتیلا بٹیا وغیرہ، اور شوہر کے وہ رشتہ دار جن سے اس عورت کا نکاح جائز ہے، ان سے پردہ کرنا واجب ہے، جیسے: شوہر کا بھائی (دیور)، شوہر کا چچا، شوہر کا ماموں، شوہر کا پھوپھا، شوہر کا خالو، شوہر کے بھائی کی اولاد اور شوہر کی بہن کی اولاد وغیرہ۔

وہ چچازاد، خالہ زاد، ماموں زاد، بہن یا اس کے علاوہ اور کوئی عورت اگر عمر رسیدہ ہو، بڑھاپے کی عمر تک پہنچ گئی ہو، اس کے ساتھ سلام یا ضروری بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی