بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عورت پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟

عورت پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟

سوال

ہمارے گھر میں سب لوگ شروع ہی سے ایک ساتھ اتفاق سے رہ رہے ہیں۔ گھر کی تمام تر ذمے داری خرچ، صدقہ، فطرہ اور قربانی وغیرہ بھی گھر کا ذمے دار فرد مشترک طور پر کرتا ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ جس طرح ہمارے گھر کے مردوں پر قربانی واجب ہے اسی طرح ہماری عورتوں پر بھی واجب ہے یا نہیں؟ جب کہ صورت حال یہ ہے کہ گھر میں موجود ہر عورت کے پاس ساڑھے سات تولے سونا اور استعمال کے کپڑے کم از کم 20جوڑے اور کچھ نہ کچھ نقد رقم بھی ہر وقت موجود رہتی ہے۔ مذکورہ بالا صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ آیا اس حالت میں عورتوں پر بھی قربانی واجب ہے؟اور وجوب کی صورت میں عورت خود قربانی کرے یا گھر کے ذمے دار فرد کے ذمے کردے، کیوں کہ ہمارا گھر مشترک ہے۔

جواب

عورت اگر خود صاحب نصاب ہو تو اس پر قربانی واجب ہے، چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔ بیان کردہ صورت میں چوں کہ گھر کی تمام عورتیں صاحب نصاب ہیں، لہٰذا ہر ایک کے ذمے الگ الگ قربانی واجب ہے۔ چناں چہ گھر کے ذمے دار کو چاہئیے کہ ان کی طرف سے بھی قربانی کا اہتمام کرے۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی