بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عورتوں کی طرف کشش نہ ہونے وہم کی بناء پر ترکِ نکاح کا حکم

عورتوں کی طرف کشش نہ ہونے وہم کی بناء پر ترکِ نکاح کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میرا تعلق ایک اسلامی گھرانے سے ہے اور والدین انتہائی نیک ہیں،میں خود بفضل اللہ پکا نمازی اور دیندار ہوں ،اللہ کی توفیق سے میں کبھی بدفعلی میں نہیں پڑا ،چونکہ اب میری عمر ۲۵ سال سے اوپر ہے اور میرے والدین میری شادی کے لیے زور ڈال رہے ہیں،بالغ ہونے سے اب تک جنسی طور پر میری کشش صرف مردوں کی طرف ہے اور عورتوں کی طرف بالکل کشش نہیں ہے،میں جانتا ہوں اور مانتا ہوں کہ یہ حرام ہےاور غلط ہے، اگرچہ کشش ہے پر اس پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں،اختیاری طور پر توبہ بھی کرتا ہوںاور قطعی ناجائز بھی مانتا ہوں، مسئلہ یہ ہے کہ یہ بات کسی سے نہیں کہہ سکتا ،اور شادی کرتا ہوںتو کشش نہ ہونے کی وجہ سے صحبت نہ کر پاؤں اور اس سے ایک لڑکی کی زندگی میری وجہ سے خراب ہو ،بدنامی کے ڈر سے نہ کسی لڑکی سے اور نہ اپنے والدین کو  بتا سکتا ہوں  ،ایسے میں میں کیا کروں ،شادی کروں یا والدین کو ناراض کروں ؟ براہِ مہربانی راہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

اسلام نے فطری خواہشات میں غلو اور حدود سے تجاوز پر پابندی لگاتے ہوئے جہاں ہر ایسے غیر فطری تعلق کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے،جو معاشرے میں بے حیائی اور بے اعتدالی کا سبب بن رہا ہو، وہاں اس نے انسانی جذبات  اور فطری ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے نکاح کی نہ صرف اجازت دی ہے، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی فرماکر اس کو سنت بلکہ بعض مواقع میں فرض و واجب قرار دیا ہے،  اس لیے کہ اگر انسان کی فطری ضرورتوں کے لیے جائز صورتیں نہ پیدا کی گئیں تو یہ بغاوت پر اتر کر جنسی بے راہ روی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔

 چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ نکاح کے مقاصد تحریر فرمانے کے بعد بطور خلاصہ لکھتے ہیں : یہ امر مفیدِ صحت ، اطمینان بخش، راحت رساں، سرور افزاء اور ترقی دارین کا سبب ہے،  اور ملک و قوم کے لیے اعلی ترین خدمات میں سے ہے،  بیماریوں سے بچانے، اور صدہا امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک حکیمی نسخہ ہے،  اگر یہ قانونِ الٰہی بنی آدم  میں نافذ نہ ہوتا، تو آج دنیا سنسان ہوتی،  نہ کوئی مکان، نہ کوئی باغ اور نہ کسی قوم کانشان باقی رہتا۔  (احکامِ اسلام عقل کی نظر میں:۱۳۷، ۱۳۸)

      لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں آپ اگر حقوقِ زوجیت کے ادا کرنے پر قادر ہیں، تو آپ کے لیے صرف اس وہم کی بنیاد پر نکاح کو ترک کرنا کہ عورتوں کی طرف کشش نہیں ہے،  جائزنہیں،  بلکہ یہ محض شیطانی وسوسہ  اور دھوکہ ہے۔

وفي العنايةعلى هامش الفتح:

وابتدأ من بينها بالنكاح لأن فيه مصالح الدين و الدنيا،و قد اشتهرت في وعيد من رغب عنه و تحريض من رغب فيه الآثار ،و ما اتفق في حكم من أحكام الشرع مثل ما اتفق في النكاح من اجتماع دواعي الشرع و العقل و الطبع،فأما دواعي الشرع من الكتاب والسنة والإجماع فظاهرة، وأما دواعي العقل فإن كل عاقل يحب أن يبقى اسمه ولا يمحى رسمه وما ذاك غالبا إلا ببقاء النسل، وأما الطبع فإن الطبع البهيمي من الذكر والأنثى يدعو إلى تحقيق ما أعد من المباضعات الشهوانية والمضاجعات النفسانية ولا مزجرة فيها إذا كانت بأمر الشرع، وإن كانت بدواعي الطبع بل يؤجر عليه بخلاف سائر المشروعات. اهـ. (كتاب النكاح:3/176،175،ط:دار الكتب العلميه)

و في التبيين:

(قوله: وقد اجتمع فيه دواعي الشرع إلخ) فأما دواعي الشرع من الكتاب والسنة والإجماع فظاهرة، وأما دواعي العقل فإن كل عاقل يحب أن يبقى اسمه ولا يمحى رسمه وما ذاك غالبا إلا ببقاء النسل، وأما الطبع فإن الطبع البهيمي من الذكر والأنثى يدعو إلى تحقيق ما أعد من المباضعات الشهوانية والمضاجعات النفسانية ولا مزجرة فيها إذا كانت بأمر الشرع، وإن كانت بدواعي الطبع بل يؤجر عليه بخلاف سائر المشروعات. اهـ. أكمل.

(كتاب النكاح:2/445،444،ط:دار الكتب العلميه)

و في التنوير مع الدر:

( ويكون واجبا عند التوقان ) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة وإلا فلا إثم بتركه  بدائع ( و ) يكون ( سنة ) مؤكدة في الأصح فيأثم بتركه ويثاب إن نوى تحصينا وولدا ( حال الاعتدال ) أي القدرة على وطء ومهر ونفقة ورجح في النهر وجوبه للمواظبة عليه والإنكار على من رغب عنه

و في الرد تحته:

قوله: (عند التوقان) مصدر تاقت نفسه إلى كذا: إذا اشتاقت من باب طلب.بحر عن المغرب.وهو بالفتحات الثلاث كالميلان والسيلان، والمراد شدة الاشتياق كما في الزيلعي: أي بحيث يخاف الوقوع في الزنا لو لم يتزوج، إذ لا يلزم من الاشتياق إلى الجماع الخوف المذكور بحر.قلت: وكذا فيما يظهر لو كان لا يمكنه منع نفسه عن النظر المحرم أو عن الاستمناء بالكف، فيجب التزوج وإن لم يخف الوقوع في الزنا.(كتاب النكاح:4/73،72،ط:رشيدية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/12