بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عورتوں کا قبرستان جانے کے لیے جمعہ کے دن کو خاص کرنا،کھانا بھی ساتھ لے جانا

عورتوں کا قبرستان جانے کے لیے جمعہ کے دن کو خاص کرنا،کھانا بھی ساتھ لے جانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں  عورتیں ہر جمعہ کی صبح کو قبرستان جاتی ہیں،تو عورتوں کا قبرستان جانا کیسا ہے؟اور جمعہ کے دن کو خاص کر کے جانا  اور وہاں  قبر  پر کھانے کی چیزیں لے کر جانا، شریعت کی رو سے کیسا ہے؟  نیز یہ کھانے کی چیزیں قبر پر رکھ دی جاتی ہیں جسے بعد میں بچے آ کر اٹھا لیتے ہیں.

جواب 

قبرستان جانے کےلیے جمعہ کے دن تخصیص  کرنا اور کھانے  کی چیزیں  قبرستان  لے جا کر  قبروں پر ڈالنا  شرعاً  درست نہیں، نیز جوان عورتوں  کا قبرستان جانا  بھی جائز نہیں  ،البتہ بوڑھی عورتیں اگر امور شرع  کی رعایت کے ساتھ جائیں  تو اس کی گنجائش ہے۔

لما في البحر :

ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به ؛ لأنه خلاف المشروع .(كتاب الصلاة،باب العيدين،2279،رشيدية)

وفي الرد:

"ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة .... وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم".

(كتاب الصلاة،مطلب:في كراهية الضيافة من أهل الميت،3176،رشيدية)

وفي عمدة القاري:

وإما الشواب فلا يؤمن من الفتنة عليهن وبهن حيث خرجن ولا شيء للمرأة أحسن من لزوم قعر بيتها ولقد كره أكثر العلماء خروجهن إلى الصلوات فكيف إلى المقابر.(كتاب الجنائز،باب زيارة القبور،8100،دارالكتب) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/318