بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عالم کا اپنے شرابی بھائی کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہیے

عالم کا اپنے شرابی بھائی کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہیے

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور عمرو بھائی ہیں ،زید عالم ہے اور عمرو شرابی ہے،لہذا زید کا عمرو کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے؟جواب عنایت  فرما کر مشکور فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً

جواب

شراب پینا حرام اور گناہ کبیرہ  ہے  ،اس لئے  مسلمان اور بھائی ہونے کے ناطے زید کا یہ  فرییضہ بنتا ہے کہ وہ اپنے بھائی عمرو کو اس گناہ سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے،اور اس کو شراب کے دنیاوی اور اخروی نقصانات سے آگاہ کرے، امید ہےکہ وہ اس گناہ سے باز آجائے گا،اور اگر اس کے باوجود بھی وہ اس گناہ کو نہ چھوڑے،اور قطع تعلقی سے اصلاح کی امید ہو تو اس کی اصلاح کی نیت سے قطع تعلقی اختیار کرے۔

لما في التنزيل:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ .(سورة المائدة:90)

وفي الرد مع التنوير:

(وحرم قليلها وكثيرها ) بالإجماع( لعينها ) أي لذاتها وفي قوله تعالى { إنما الخمر والميسر } ( وهي نجسة نجاسة مغلظة كالبول ويكفر مستحلها وسقط تقومها ) في حق المسلم ( لا ماليتها ) في الأصح... ( وحرم الانتفاع بها ) ...( ويحد شاربها وإن لم يسكر منها و ) يحد ( شارب غيرها إن سكرولا يؤثر فيها الطبخ ) قوله: (وسقط تقومها في حق المسلم) حتى لا يضمنها متلفها وغاصبها... وقال عليه الصلاة والسلام: (إن الذي حرم شربها حرم بيعها وأكل ثمنها.(كتاب الأشربة،10/34،33،رشيدية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:172/10