بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طلبہ کے چھوڑے ہوئے قلم، کتاب وغیرہ کو استعمال میں لانا؟

طلبہ کے چھوڑے ہوئے قلم، دوات، گتہ  اور کتاب وغیر کو استعمال میں لانا کیسا ہے؟

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ امتحان کے بعد طلباء اپنے قلم، دوات اور گتے پھینک دیتے ہیں مسجد او رکمروں میں، کیا ان اشیاء کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے؟ کیوں کہ نہ تو ان کا مالک معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اجازت لی جائے اور نہ اس کو پھینکا جاسکتا ہے لیکن اگر اس کو نہ لیا جائے تو وہ ضائع ہوتے ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر قلم، دوات، گتّہ، کاپی اور کتاب وغیرہ کا مالک معلوم ہو سکتا ہو تو اس سے رابطہ کرکے پوچھ لیا جائے کہ ان چیزوں کے ساتھ کیا کریں، عام طور پر ان اشیاء پر نام لکھے ہوئے ہوتے ہیں ،او راگر نام لکھا ہوا نہ ہو اور نہ ہی مالک معلوم ہو تو یہ اشیاء لقطہ کے حکم میں ہیں، لقطہ کا حکم یہ ہے کہ مالک کی تحقیق کی جائے، اگر غالب گمان یہی ہو کہ مالک نہیں ملے گا تو یہ چیزیں مالکان کی طرف سے فقیر طلبہ کو دیے دی جائیں کہ اس کا ثواب اصل مالکان کو پہنچ جائے ،اور اگر یہ اٹھانے والا شخص خود مستحق ہو تو خود اٹھا کر اس سے نفع حاصل کر سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی