بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سوتیلی ماں اور ربیبہ محرم ہیں یا نہیں؟ اور ان کے نفقہ کا حکم

سوتیلی ماں اور ربیبہ محرم ہیں یا نہیں؟ اور ان کے نفقہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ 1۔میرے والد نے دوسری شادی کی اور خلوتِ صحیحہ  بھی ہوئی  مگر ان کی  کوئی اولاد نہیں ہے، تو ہم ان کے سوتیلے بیٹے اپنی سوتیلی ماں کے لیے محرم ہیں ، یا نامحرم اور اگر  میرے والد کی کوئی معقول آمدنی نہیں ہے تو سوتیلی  والدہ کے علاج معالجے اور نان نفقہ  کے حوالے سے ہم پہ کیا حکم ہےاور اگر ان کے درمیان طلاق ہو جائےتو اس صورت میں حلت و حرمت اور خرچ کرنے کے حق حقوق کا کیا حکم ہے؟

2۔ اسی طرح میری شادی ایک مطلقہ عورت سے ہوئی جس کی پہلے شوہر سے دو بچیاں ہیں اب وہ بچیاں میرے لیے اور میں ان کے لیے محرم ہوں،یا نامحرم ۔جبکہ میری بھی اپنی اہلیہ سے خلوت ِ صحیحہ ہو چکی ہے، اور ان بچیوں پہ خرچ کرنے کا کیا حکم ہے جبکہ ان کا سگا باپ موجود ہے، مگر ان بچیوں کے کسی حق کو ادا نہیں کرتا۔

جواب

1۔صورت مسئولہ میں سوتیلی ماں ہمیشہ کےلئےآپ کی محرمہ ہے،اگرچہ والدین کےدرمیان طلاق واقع ہوجائے،اورسوتیلی ماں کاکھانا، پینا، لباس اور رہائش کے اخراجات طلاق سےپہلےہوں،یاطلاق کےبعدعدت ختم ہونےتک آپ کےوالدصاحب پرواجب ہوں گے،اگروالدصاحب کسی وجہ سےخرچہ دینےسےعاجزہوجائیں،تویہ ذمہ داری اس کی اولادپرعائدہوگی،ان کےعاجزآجانےکےبعددوسرےذی رحم محرم رشتہ داراس کےاخراجات برداشت کریں گے۔البتہ علاج معالجہ کا خرچہ والدیا اولادکے ذمہ شرعاً لازم نہیں، اخلاقاًوالدپرلازم ہےکہ علاج معالجہ کےسلسلے میں اپنےسسرکےساتھ تعاون کرے۔

2۔مذکورہ صورت میں بھی دونوں بچیاں  ہمیشہ کے لئےآپ کی محرم ہیں،اوران کاخرچہ ان کےوالدحقیقی پرواجب ہوگا،اگروالدباوجودقدرت کےبچیوں کے حقوق ادا نہیں کرتا،تووہ اس کی وجہ سےگنہگارہوگا،بصورت دیگراگرآپ خرچہ برداشت کریں گے،توآپ کی طرف سےان پرتبرع اوراحسان ہوگا۔

وفي البدائع:

     "أماالنوع الأول:فالمحرمات بالقرابة سبع فرق الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات وبنات الأخ وبنات الأخت قال الله تعالى:{حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم وأخواتكم وعماتكم وخالاتكم وبنات الأخ وبنات الأخت وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم}الآية...وتحرم عليه بناته بالنص،وهو قوله تعالى:{وبناتكم}سواءكانت بنته من النكاح أو من السفاح لعموم النص."

(كتاب النكاح،المحرمات بالقرابة،2/529،ط:رشيدية)

وفيه أيضا:

         "النفقة أنواع أربعة:نفقة الزوجات ونفقة الأقارب... أماوجوبهافقددل عليه الكتاب والسنة والإجماع والمعقول... وأما السنة:فما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم:(أنه قال:اتقوا الله في النساء،فإنهن عندكم عوار(عوان)لايملكن لأنفسهن شيئا،وإنماأخذتموهن بأمانةالله واستحللتم فروجهن بكلمةالله،لكم عليهن حق أن لا يوطئن فرشكم أحدا،ولا يأذن في بيوتكم لأحد تكرهونه ،فإن خفتم نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غيرمبرح،ولهن عليكم كسوتهن ورزقهن بالمعروف،ثم قال ثلاثا ألا هل بلغت).............ونفقة الوالدين والمولودين تجب من غيرقضاءالقاضي"

 (كتاب النفقة،فصل في سبب وجوب النفقة،3/417،428،ط:رشيدية)

 

 

وفي الدرالمختار:

           "هي الطعام(ونفقةالغيرتجب على الغيربأسباب ثلاثة:زوجية،وقرابة،وملك ......(فتجب للزوجة) بنكاح صحيح،(فتجب للزوجةولوصغيرالايقدرعلى الوطىءأوفقيراولو)كانت(مسلمةأوكافرةأوكبيرة أوصغيرةتطيق الوطئ فقيرة أو غنيةموطوءة،أولا).......(و)تجب(لمطلقةالرجعي والبائن والفرقةبلا معصية كخيارعتق،وبلوغ وتفريق بعدم كفاءةالنفقةوالسكنى والكسوة وتجب) النفقة بأنواعهاعلى الحر،(لطفله)يعم الانثى والجمع(الفقير)الحر،فإن نفقةالمملوك على مالكه والغني في ماله الحاضر" 

(كتاب الطلاق،باب النفقة،5/283ـــــــ345،ط:رشيدية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 169/227,228