بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طلاق سے قبل علیحدگی کی صورت میں بیٹے کی پرورش کا حقدار کون ہو گا؟

طلاق سے قبل علیحدگی کی صورت میں بیٹے کی پرورش کا حقدار کون ہو گا؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم نے اپنی بیٹی کی شادی یکم دسمبر2013ء میں کر دی، وقت اچھا گزر رہا تھا، کچھ عرصہ پہلے ان کے شوہر سعودی عرب چلے گئے اور ساس سسر اور ہماری بیٹی میں جھگڑے شروع ہو گئے جس کی وجہ سے ہم اپنی بیٹی کو گھر لے آئے، لیکن اس کا ایک ہی بیٹا جس کی عمر دو سال ہے، وہ ہمیں نہیں دیا، کیا شرعاً وہ اس بچے کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا یہ حق ہماری بیٹی کا ہے؟ نیز وہ اپنے بیٹے کو کتنے عرصے تک رکھ سکتی ہے؟

حالات سے لگتا ہے کہ وہ ہماری بیٹی کو چھوڑ دے گا، ہماری بیٹی بھی اب ان کے پاس جانا نہیں چاہتی، بیٹی نے بتایا کہ ایک دن گھر میں مجھے مارا، میں بھاگ کر برابر والے گھر میں چلی گئی، وہاں سے مجھے گلی میں مارتے مارتے گھر تک لائے، بہرحال کیا ہم بیٹا لے سکتے ہیں؟

 

جواب

بیوی پر حقوق العباد میں سے سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے او راحادیث میں شوہر کی اطاعت کی بڑی تاکید وارد ہوئی ہے، اسی طرح الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے بیویوں کے حقوق اور ان کی رعایت ومدارات کی بھی تاکید فرمائی ہے، حتی کہ بیویوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کو کمالِ ایمان کی علامت بتلایا ہے۔

اگر کبھی ناچاقی کی صورت بن جائے تو میاں بیوی کو چاہیے کہ معافی تلافی کرکے پھر سے خوش گوار زندگی گزاریں، گھر کے بڑوں کو چاہیے کہ دونوں کے درمیان صلح کرانے میں بھرپور کردار ادا کریں، نیز جب تک خوش اسلوبی سے گزر بسر ہو سکے، نباہ کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

صورت مسئولہ میں بچے کی والدہ کو پرورش کا حق حاصل ہو گا، سسرال والوں کے لیے جائز نہیں کہ بچے کو ماں سے الگ کریں یہاں تک کہ بچہ خود کھانے، پینے، پہننے، استنجاء کرنے لگ جائے او ران چیزوں میں دوسروں کا محتاج نہ رہے، عام طور پر بچہ سات سال کی عمر میں اس قابل ہو جاتا ہے، لہٰذا سات سال کی عمر کا اعتبار کیا جائے گا، البتہ جب تک میاں بیوی کا رشتہ قائم ہے ، پرورش کی جگہ شوہر کا گھر ہے، بغیر کسی شرعی عذر کے وہاں سے منتقل کرنا جائز نہیں اور طلاق وعدت کے بعد عورت جہاں رہے گی وہیں پرورش کرے گی۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی