بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صدقات نافلہ کی رقم سے مدرسے کے استاذ کی معاونت کرنا

صدقات نافلہ کی رقم سے مدرسے کے استاذ کی معاونت کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ مکتب یا مدرسے کا کوئی استاذ شدید بیمار ہوجائے،گھریلو مالی حالات تنگ ہوں، تو اس صورت میں اس استاذ کو تعاون کے طور پر مدرسے کی صدقات نافلہ کی رقم سے کچھ رقم دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

        صورت مسئولہ میں صدقہ کی گئی رقم کی اگر صدقہ کرتے وقت کوئی خاص مد متعین کی گئی ہے ،تو اس رقم کو اسی مد میں استعمال کرنا ضروری ہے، البتہ اگر کوئی مد متعین نہیں کی گئی بلکہ مطلقاً صدقہ کی گئی ہے،تومہتممصاحب جہاں ضرورت سمجھیں ،اس رقم کو اپنی صوابدید پر خرچ کرسکتے ہیں۔

سوال مذکورہ میں اگر صدقہ کی گئی رقم کی مد متعین نہیں ،تو مہتمم صاحب مدرسے کے استاد کو بطور تعاون کے وہ رقم دے سکتے ہیں۔

لما في المحيط البرهاني:

وإنما تحرم على هؤلاء الصدقة الواجبة من العشور والبذور والكفارات، فأما الصدقة على وجه الصلة والتطوع، فلا بأس.(کتاب الزکاة،الفصل الثامن:من یوضع فیه الزکاة[رقم:2792]،ط:المجلس العلمي).

وفي الهندية:

هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في ⸩الكافي⸨.

(کتاب الزکاة،الباب السابع:في المصارف:1/251،ط:دارالفکر).

وفي البحر:

وقال المصنف في الكافي وهذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة أما التطوع والوقف فيجوز الصرف إليهم.(کتاب الزکاة،باب المصرف:2/246،ط:رشیدیة).

وفي الفقه الاسلامي وادلته:

وأما ما سوى الزكاة من صدقة الفطر والكفارات والنذور، فلا شك في أن صرفها إلى فقراء المسلمين أفضل؛ لأن الصرف إليهم يقع إعانة لهم على الطاعة.(کتاب الزکاة،سابعاً:شروط المستحقین:2/790،ط:هدی انترنیشنل بک دپو).

وفي الموسوعة الفقهية:

الأصل أن الصدقة تعطى للفقراء والمحتاجين ، وهذا هو الأفضل ، كما صرح به الفقهاء .وذلك لقوله تعالىٰ:﴿ أو مسكينا ذا متربة ﴾.(کتاب الزکاة:26/332،ط:بـــــیروت)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:172/82