بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شوہر اگر اپنی جائیدادبھائی کےنام کردے تو بعد میں بیوی بچوں کا اپنے حصے کا مطالبہ کرنا

شوہر اگر اپنی جائیدادبھائی کےنام کردے تو بعد میں بیوی بچوں کا اپنے حصے کا مطالبہ کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے  میں کہ ایک عورت ہے جس نے  اپنے شوہر کے مر جانے کے بعد دوسرے شخص  (معتبر ) کے ساتھ شادی کی اور اس دوسرے  شوہر کے یہاں چار بیٹیاں پیدا ہوئیں اور بیٹا  کو ئی پیدا نہیں ہوا،اب اس دوسرے شوہر نے اپنی زندگی میں اپنا مال اس غرض سے  کہ بیٹا کوئی نہیں ہے اور بیٹیاں تو ہمیشہ یہاں  نہیں رہی گی ،اپنا مال اور جائیداد اپنے بھائی کو دے دیا ،اب اس آدمی کے مرجانے کے بعد اس کی  بیوی اور بیٹیاں اس مال کا مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں ؟اگر   ان میں سے کوئی ایک بھی  مطالبہ کرے ، تو اس کی کیا صورت ہوگی ، نیز اس  عورت کا پہلے شوہر سے ایک بیٹا بھی ہے۔

وضاحت :مال سے مراد زمینیں ہیں ، جو مرحوم  نے باقاعدہ لکھ کر اپنے بھائی کو مالکانہ  اختیارات کے ساتھ اور قبضہ دے کر دے دی تھیں ،جس گھر میں مرحوم رہائش پذیر تھے ،وہ گھر بھی  بھائی کو لکھ کر دے دیا تھا،البتہ خود مرتے دم تک اس گھر میں رہائش پذیر رہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں شوہر  نے اپنی زندگی میں جو جائیداد بھائی کو مالکانہ اختیارات کے ساتھ دےکر قبضہ  بھی دیا،  تو یہ ہبہ ہے ، جو کہ بھائی کے قبضہ کر نےکی وجہ سے مکمل ہوگئی ، لہذا  اس جائیدادمیں اس کی بیوی اوربچیو ں کا مطالبہ کر نا درست نہیں ، البتہ جس گھر میں مرحوم  رہائش پذیر تھے ،اس میں شرعا بھائی کا  مکمل قبضہ نہ ہو نے کی وجہ سے ہبہ مکمل نہیں ہوئی ، لہذا گھر بطورِ میراث تقسیم کیا جائے گا، اور اس میں بیوی اور بچیو ں کا مطالبہ کرنا درست ہے۔

لما في بدائع الصنائع:

"( ومنها ) القبض وهو أن يكون الموهوب مقبوضا...وقال ابن أبى ليلى وغيره من أهل الكوفة ليس بشرط وتجوز الصدقة إذا أعلمت وإن لم تقبض ولا تجوز الهبة ولا النحلى إلا مقبوضة واحتجوا بما روي عن سيدنا عمر وسيدنا علي رضي الله عنهما قالا إذا علمت الصدقة جازت من غير شرط القبض".

(كتاب الهبة،فصل في شرائطها،8/104،105،ط:دارالكتب العلمية ).

وفي ملتقى الأبحرو مجمع الأنهر:

"هي تمليك عين بلا عوض وتصح بإيجاب وقبول ، وتتم بالقبض الكامل...المراد بالقبض الكامل في المنقول ما هوالمناسب،وفي العقار أيضا ما يناسبه".(كتاب الهبة،3/489،492،ط:المكتبة الغفارية).

وفي الدرالمختار:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا".(كتاب الهبة،8/573،ط:رشيدية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/266