بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شوقیہ شکار کرنے کی شرعی حیثیت

شوقیہ شکار کرنے کی شرعی حیثیت

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں : مجھے شکار کرنے کا شوق ہے میں اس کے لیے باقاعدہ کتے پالتا ہوں اور ان کتوں کو تعلیم اور پریکٹس دیتا ہوں، جب شکار کا موسم ہوتا ہے تو ضروریات ِسفر اور کتے ساتھ لے کر دس پندرہ دن تک شکار کے مقام میں قیام کرتا ہوں میں اس کو عدی بن حاتم رضی الله عنہ کی سنت سمجھتا ہوں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا شوقیہ طور پر شکار کرنا درست ہے؟ اور کیا اس کو سنت یا کم از کم مستحب سمجھا جاسکتا ہے؟ یہ بات واضح ہوکہ میں کوئی شکار ضائع نہیں کرتا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتا کسی شکار کو ضائع نہیں کیا جاتا ہے ، تو پھر شوقیہ شکارکرنا جائز ہے، لیکن اس کو سنت یا مستحب کہنا درست نہیں ،بلکہ مباح ہے، بشرطیکہ لہو ولعب کے لیے نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی