بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سرکاری ملازم کا ڈیوٹی ٹائم میں قیلولہ کرنے کا حکم

سرکاری ملازم کا ڈیوٹی ٹائم میں قیلولہ کرنے کا حکم

سوال

… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک سرکاری اسکول میں معلم القرآن ہے او راس کے علاوہ اپنی مسجد میں فجر کے بعد ڈیڑھ گھنٹہ، پھر ظہر تا عصر او رپھر مغرب تا عشاء بچوں کو حفظ وناظرہ بڑی تعداد میں پڑھاتا ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ اسے قیلولہ ( ذہنی آرام) کی اشد ضرورت ہوتی ہے،بلکہ جس دن قیلولہ نہ ہو اس دن گویا اس کا وجود کا لعدم ہو جاتا ہے، قیلولہ کے لیے وہ اپنے اسکول کے مقررہ وقت سے آدھ پون گھنٹہ پہلے چھٹی کرنا چاہتا ہے، کیا زید کا اپنے ہیڈ ماسٹر کی اجازت سے اسکول کے مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا صحیح ہے؟ اگر یہ طریقہ کا راز روئے شریعت صحیح نہیں تو برائے کرام اس کے لیے شرعی طریقہ کار بیان فرما کر تشفی فرمائیں۔

نیز اگر مندرجہ بالا مجوزہ طریقہ کا راز روئے شریعت جائز نہیں تو زید کے لیے برائے قیلولہ شرعی حیلہ سے آگاہ فرماکر مشکور فرمائیں، کیوں کہ زید کے لیے قیلولہ از حد ضروری ہے۔

واضح رہے کہ زید کی باقاعدگی سے محنت اور اس کی درس گاہ کا مستند ہونا اہل علاقہ او رمقامی علمائے کرام کے ہاں مسلم ہے اور تقریباً اٹھارہ سال سے باقاعدگی سے زید اس میں بفضلہ تعالی خدمت انجام دے رہا ہے، اب اگر اپنی ذہنی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لیے (جو کہ خالصتاً تعلیم قرآن کے لیے ہو۔) وہ اسکول کے وقت مقررہ سے پہلے اجازت نہ ملنے پر حسب معمول بچوں کو نہ پڑھاسکے تو اس پر اس عمل کا گناہ ہو گا؟

اگر ہو گا تو کس پر؟ زید پر یا اسکول ہیڈماسٹر پر؟ کیوں کہ ہیڈ ماسٹر صاحب بخوبی جانتا ہے کہ زید کا آدھ پون گھنٹے پہلے جانے سے وہ زید کی کمی کو پورا کرسکتا ہے۔ (حالاں کہ کوئی خاص کمی واقع بھی نہیں ہوتی) ،برائے کرم مندرجہ بالا آراء کو ملاحظہ فرماکر شرعی طریقہ کار سے آگاہ فرمائیں۔

جواب

 صورت مسئولہ میں زید کے لیے اسکول سے مقررہ وقت سے آدھ پون گھنٹہ پہلے چھٹی کرنا جائز نہیں، چاہے ہیڈ ماسٹر صاحب اجازت دے یا نہ دے، جتنے ایام آدھ پون گھنٹہ پہلے چھٹیاں کی ہیں اس کا اسکول میں ماہانہ کل وقت تدریس کے حساب سے جو نسبت بنتی ہے اسی حساب سے اپنی تنخواہ کا حصہ سرکاری خزانے میں واپس جمع کرنا ضروری ہے۔اگر قیلولہ ضروری ہے اور ظہر کے بعد بچوں کو قرآن شریف پڑھانا بھی ضروری ہے کہ کوئی متبادل موجود نہیں توزید چوں کہ خود امام ہے، لہٰذا اسکول کی چھٹی اور نماز ظہر کے درمیان مناسب وقفہ رکھیں (اہل محلہ چوں کہ زید کے حالات سے باخبر ہیں تو ان شاء الله وہ کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے) جس میں زید قیلولہ کر سکے او راگر اسکول کی چھٹی کافی دیر سے ہوتی ہے کہ نمازِ ظہر اور اسکول کی چھٹی میں اتنا لمبا وقفہ نہیں کیا جاسکتا تو نماز ظہر کے بعد کچھ دیر قیلولہ کرے اور پھر بچوں کو حفظ وناظرہ پڑھائیں۔

حسب معمول بچوں کو نہ پڑھاسکنے پر نہ زید پر کوئی گناہ ہے اور نہ اسکول ہیڈ ماسٹر پر، باقی اگر زید خود کفیل ہے تو متعلقہ نوکری چھوڑ کر قرآن شریف پڑھانے کو ترجیح دیں، بصورتِ دیگر اہل محلہ پر لازمی ہے کہ اپنے بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کے لیے کسی اچھے اور ماہر عالم یا قاری کا تقرر کریں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی