بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سرکاری ملازم کا پورا وقت ڈیوٹی نہ کرنا

سرکاری ملازم کا پورا وقت ڈیوٹی نہ کرنا

سوال

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک گورنمنٹ کا ملازم ہوں، عدالت میں جج کے ساتھ فائل وغیرہ کا کام کرتا ہوں، ہماری ڈیوٹی کا وقت 8 بجے صبح سے4 بجے شام تک ہے، لیکن عام طور پر جج صاحبان تقریباً صبح10 بجے نکلتے ہیں اور 2 بجے ظہر کی چھٹی کر دیتے ہیں، ہمارے لیے مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈیوٹی پوری کرنا بھی چاہے تو اس کے لیے یہ مجبوری ہے کہ ہمارا تو سارا کام جج کے ساتھ ہوتا ہے، ہم اگر سویرے بھی پہنچ جائیں تو کمرے سب بند ہوتے ہیں اس لیے مجبوراً دیر سے آتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ ہمارے لیے یہ تنخواہ حلال ہے یا حرام؟ حرام ہونے کی صورت میں ہم ڈیوٹی کا کیا طریقہ کا اختیار کریں تاکہ آئندہ کے لیے حرام سے بچ جائیں؟

جواب

 واضح رہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے ملازمین کے لیے جو وقت مقرر کیا گیا ہے، ا س کی پابندی کرنا نہایت ضروری ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی کرنا جائز نہیں ہے،پس اگر پورا شعبہ او رمحکمہ اپنے مقررہ وقت پر کام شروع کرتا ہو، یا شعبہ کے دفاتر کھلے ہوں، تو آپ کے لیے مقررہ وقت سے تاخیر کرنا جائز نہیں ہے، چاہے جج صاحبان اپنے وقت پر آئیں یا تاخیر سے اور اگر پورا شعبہ او رمحکمہ بھی اپنے مقررہ وقت پر کام شروع نہیں کرتا ہے بلکہ بند رہتا ہے، تو پھر آپ مجبور ہیں، لہٰذا آپ کے لیے تنخواہ لینا حرام نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی