بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زندگی میں بعض اولاد کو جائیداد میں حصہ نہ دینا

زندگی میں بعض اولاد کو جائیداد میں حصہ نہ دینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دادامرحوم کے دو اولاد تھے: ایک بیٹا اور ایک بیٹی، میرے دادا کی کل زمین31 کنال اور14 مرلے ہے، میرے دادا نے ساری زمین اپنے پوتوں او راپنی اہلیہ (میری دادی) کو زندگی میں خود انتقال زمین کرکے دی تھی، دادی کو 3 کنال اور کچھ مرلے۔ زمین انتقال کی تھی اور باقی زمین اپنے 5 پوتوں کو انتقالاً زمین کرکے دی تھی ، زندگی میں میرے دادا نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو کچھ بھی حصے میں نہیں دیا تھا، حالاں کہ میرے دادا کو اپنے بیٹے اور بیٹی سے ناراضگی کی کوئی صورت نہیں تھی، میرے دادا کا1992ء میں انتقال ہو چکا ہے ،دادای کا1998ء میں اور دادا کے بیٹے کا 2007ء میں انتقال ہوچکا ہے، اب میرے دادا کی بیٹی، جو کہ زندہ ہے، مطالبہ کررہی ہے کہ مجھے اس انتقال شدہ زمین (جائیداد) میں اپنا حصہ دے دیا جائے تو کیا شریعت کی رو سے دادا کی بیٹی کو اس جائیداد میں حصہ ملے گا؟

جواب

یاد رہے کہ اگر آپ کے دادا نے اپنی اہلیہ ( آپ کی دادی) اور پانچ پوتوں کے نام جائیداد کرنے کے بعد قبضہ نہ دیا ہو، تو شرعاً ان کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی، لہٰذا آپ کے دادا کی بیٹی جائیداد سے محروم نہ ہو گی، بلکہ مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑا ہے یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن ودفن کے درمیانے اخراجات ادا کیے جائیں ( اگر یہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے ادا کر دیے ہوں تو پھر مرحوم کے ترکہ سے منہا نہیں کیے جائیں گے )، اس کے بعد اگر مرحوم کے ذمے کوئی واجب الاداء قرض یا دیگر مالی واجبات ہوں تو وہ ادا کر دیے جائیں، اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیروارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو توبقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی کی حد تک نافذ کر دیا جائے، اس کے بعد بقیہ ترکہ کو شریعت کے مطابق بیٹی سمیت تمام ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔

لیکن اگر دادا نے اپنی زندگی ہی میں قبضہ دیا تھا، تو اس کی بیٹی جائیداد سے محروم ہو گی، لیکن دادا کے لیے اس طرح کرنا درست نہ تھا۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی