بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

روزے کی حالت میں نسوار لگانے کا حکم

روزے کی حالت میں نسوار لگانے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے منہ میں نسوار رکھا تو کیا اس سے روزہ دار کا روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟اگر اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا تو اس کی علت کیا ہے؟ میرے خیال میں نسوار سے روزہ نہیں ٹوٹنا چاہیے ؛ کیونکہ ہم صوم کی تعریف یوں کرتے ہیں    ( هو إمساك عن مفطرات الثلاثة ) اور  یہ تعریف نسوار سے روزہ ٹوٹنے پر منطبق نہیں ہو رہی ۔

لہذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ آپ لوگ مجھے اس کے متعلق تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

      واضح رہے کہ روزے کے دورا ن نسوار کے استعمال سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ، کیونکہ  نسوار کا منہ مین رکھنا عملا کھانے کےحکم میں  ہے، اس لیے جب نسوار منہ میں رکھی جاتی  ہے  تو وہ حل ہوکر   اس  کے کچھ اجزاء تھوک کے ساتھ مل کر پیٹ اور معدہ میں چلے جاتے ہیں ، نیز  روزہ توڑنے والی چیزوں میں سے ایک  غذا وہ ہے  کہ جو اصلاح  بدن کا سبب بنتی ہے ، دوسری وہ ہے  کہ جو  روزہ دار کے لیے  نفع ، تسکین اور لذت کا سبب بنتی ہے  اور طبیعت کا میلان  اس کی طرف پایا جاتا ہے، نسوار کے ذرات بالفرض اگر  اندر نہ  بھی جائیں  تو اس کا مروج طریقے پر استعمال   چوں کہ باعث تسکین ہے  اور روزہ دار کی طبیعت کا بھی میلان  اس کی طرف  پایا جاتا ہے اس لیے یہ مفسد صوم ہے۔     

وفي الشامية:

 ( أو أكل أو شرب غذاء ) بكسر الغين والذال المعجمتين والمد.

قال في حاشيته اختلفوا في معنى التغذي قال بعضهم إن يميل الطبع إلى أكله وتنقضي شهوة البطن به وقال بعضهم هو ما يعود نفعه إلى صلاح البدن وفائدته فيما إذا مضغ لقمة ثم أخرجها ثم ابتلعها فعلى الثاني يكفر لا على الأول وبالعكس في الحشيشة لأنه لا نفع فيها للبدن وربما تنقص عقله ويميل إليها الطبع وتنقضي بها شهوة البطن .

(كتاب الصوم،باب ما يفسد وما لا يفسد ،مطلب في جواز الإفطار بالتحري :3/443 ،ط:رشيديه)فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 168/201