بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دکانوں کے سامنے روڈ پر کچرا ڈالنا

دکانوں کے سامنے روڈ پر کچرا ڈالنا

سوال

مفتی صاحب !   میں ایک دوکاندار ہوں،اور اسی شاہ فیصل کالونی میں میری دوکان ہے،کچھ عرصے سے ایک مسئلہ درپیش ہے،جس سے شدید تکلیف ہے،کہ ہمارے بازار میں سامنے روڈ پر کچھ عرصے سے لوگ کچراڈال دیتے ہیں،پہلے کم ہوتا تھا،لیکن اب بہت زیادہ ہوتا ہے،جس کی وجہ سے آنے جانے والے لوگوں کو بہت پریشانی کاسامنا کرنا پڑتا ہے،اس کچرے کے ڈالنے میں تقریباً اکثر دوکاندار بھی شریک ہیں،اس طرح کے کچرے کے ڈالنے سے دوکاندار گنہگار ہوں گے یانہیں؟

برائے مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے راستوں اور روڈوں پر کچرا ڈالناکہ جس سےوہاں کےرہنےوالوں اور گذرنے والوں کو تکلیف پہنچے،یہ ایک ناجائز اور گناہ کے کام کا ارتکاب ہے،رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ :اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل نہیں کرتا ہے،جس کے شر سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں،لہذا ہرمسلمان کواس جیسےتکلیف دہ عمل سےاجتناب لازم اور ضروری ہے۔

وفي التنوير مع الدر:

[وكذا يكره] أي: (بول وغائط........ على طرف نهر أو بئر أو حوض أو عين أو تحت شجرة مثمرة أو في زرع أو في ظل ) زاد العيني وفي موضع يعبر عليه أحد أو يقعد عليه وبجنب طريق أو قافلة أو خيمة.

قال الشامي: قوله ( وعلى طرف نهر الخ ) أي وإن لم تصل النجاسة إلى الماء لعموم نهي النبي عن البراز في الموارد ولما فيه من إيذاء المارين بالماء.

(كتاب الطهارة،باب الاستنجاء :1/ 612،611،رشيدية)فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 168/29