بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دکانوں کی چھت مسجد شرعی بن سکتی ہے یا نہیں؟مسجد کے نیچے دکانوں اور اوپر گودام وغیرہ کا مسجد کا حکم؟

دکانوں کی چھت مسجد شرعی بن سکتی ہے یا نہیں؟مسجد کے نیچے دکانوں اور اوپر گودام وغیرہ کا مسجد کا حکم؟

سوال

:    کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ لندن کی ایک مسجد کی  دیوار سے متصل دس دکانیں ہیں،ان دکانوں کے اوپر مزید  دو منزلیں بنی ہوئی ہیں،جن کے بعض حصے گودام ،رہائش  وغیرہ کے استعمال میں ہیں،بعد میں  مسجد کی بالائی منزل میں توسیع کرتے ہوئےان دکانوں کے اوپر پہلی منزل کو مسجد میں شامل کردیا گیا ،اب نماز کے وقت صفیں اس پہلی منزل  میں بھی  بن جاتی ہیں۔

(۱)      پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح توسیع کرنے سے دکانوں کے اوپر والی پہلی منزل  حُدود مسجد میں شامل ہوجائے گی اور اس پر مسجد والے احکام جاری ہوں گے ؟

(۲)      دکانوں والی عمارت کی پہلی منزل کے مسجد بننے کے بعد  نیچے موجود  دس دکانیں  اور دوسری منزل پر موجود  رہائش ،گودام وغیرہ  کا مسجد ہونے یا نہ ہونے کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

(۱)      واضح رہے کہ اس طرح توسیع کرنے سے دکانوں کی پہلی منزل حدود مسجد میں شامل نہیں ہوگی،اور اس پر شرعی مسجد والی احکام جاری  نہیں ہوں گے،شرعی مسجد کا حکم اس وقت ہوگا جب دکانوں سے مالک کی ملکیت ختم کر کے مسجد کی  ملکیت میں دے دی جائیں۔

(۲)      نیچے موجود دس دکانیں اور دوسری  منزل پر موجود  رہائش اور گودام وغیرہ  شرعی مسجد کے حکم میں نہیں ہوں گے۔ 

لما في التنوير مع الدر:

(وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس (ولو جعل لغيرها أو) جعل (فوقه بيتا وجعل باب المسجد إلى طريق وعزله عن ملكه لا) يكون مسجدا (وله بيعه يورث عنه)

وفي الشامية تحته:

قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]........ وفي القهستاني ولا بد من إفرازه أي تمييزه عن ملكه من جميع الوجوه فلو كان العلو مسجدا والسفل حوانيت أو بالعكس لا يزول ملكه لتعلق حق العبد به كما في الكافي.

(كتاب الوقف،6547،548، ط: رشيدية)

وفي البحر:

( قوله ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل بابه إلى الطريق.... وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى { وأن المساجد لله }(كتاب الوقف،5421، ط: رشيدية)

وفي التتارخانية:

ولوجعل تحته سردابا أو فوقه غرفة لم يصر مسجدا.(كتاب الوقف،2408،ط:دارالفكر)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/62,63