بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دُلہن پر قرآن کریم کا سایہ کرنے، شادی میں چراغاں کرنے، گاڑی سجانے اور فائرنگ کرنے کا حکم

دُلہن پر قرآن کریم کا سایہ کرنے، شادی میں چراغاں کرنے، گاڑی سجانے اور فائرنگ کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں کہ یہ جو شادیوں میں بارات لے جانے کے وقت دُلھن پر قرآن مجید کا سایہ کیا جاتا ہے ، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

نیز شادی کے موقع پر گھروں پر چراغاں کیا جاتا ہے او راسی طرح دُلھن کی کار کو خوب صورت کیا جاتا ہے اور اس پر تیلے اور پھول وغیرہ لگائے جاتے ہیں اور بارات کے آنے پر بارات کی خوشی میں فائرنگ کی جاتی ہے، نیز اگر فائرنگ جائز ہو تو اس کی کوئی مقدار ہے؟

جواب

 دُلہن پر قرآن مجید کا سایہ کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے، نیز گھر میں چراغاں کرنا یا گاڑی کو سجانا اگر زیب وزینت کے لیے ہو، استطاعت سے زیادہ بھی نہ ہو ، لازم اور ضروری بھی نہ سمجھا جائے اور ریا کاری بھی مقصود نہ ہو، تو جائز ہے، ورنہ نہیں، باقی فائرنگ کرنا یہ اضاعت مال بھی ہے اور قانوناً بھی ممنوع ہے، اس لیے اجتناب کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی