بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دوران عدت کسی عذر کی وجہ سے ملک سے باہر سفر کے لیے جانا

دوران عدت کسی عذر کی وجہ سے ملک سے باہر سفر کے لیے جانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت  اپنے شوہر کے ساتھ باہر  ملک رہتی  ہے، ان دونوں کی مستقل رہائش بھی اسی ملک میں ہے،علاج کی غرض سے کراچی میں آئے تھے،اور کراچی میں بھی ان کا اپنا گھر ہے،پھر یہی کراچی ہی  میں اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا،اب یہ عورت واپس اسی ملک میں جانا چاہتی ہے،اور آئندہ بھی وہیں سکونت کا ارادہ ہے،نیز ویزے(اقامے) کی میعاد ختم ہونے والی ہے،جس کی  وجہ سے اس کی تجدیدکرانے کےلیے بھی وہاں جانا ضروری ہے،(اس لیے کہ فی الحال تجدید نہ کرانے کی صورت میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے) اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا  یہ عورت دورانِ عدت وہاں  (ملک سے باہر )جاسکتی ہے، یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب 

واضح رہے کہ شوہر کے انتقال سے پہلے میاں ،بیوی جس گھر میں رہائش پذیر  ہوں ، شوہر کے انتقال کے بعد بیوی پر اسی گھر میں عدت گزارنا ضروری ہوتا ہے،چاہے وہ گھر مملوکہ ہو ،یاکرائے کا ،اس گھر میں مستقل رہائش ہو ،یا عارضی،بغیر عذرِشرعی اور سخت مجبوری کے اس گھر سے کہیں اور  منتقل ہونا ،اوروہاں  عدت گزارناجائز نہیں ہے،نیز عدت کے دوران عورت کے لیے ہر قسم کا سفر،یہاں تک کہ  حج جیسا مبارک سفر بھی ممنوع ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ  شوہر کے انتقال سے پہلے میاں بیوی  دونوں کراچی والے گھر میں رہائش پذیر تھے ،تو عورت کے لیے اسی گھر میں عدت گزارنا ضروری ہوگا،البتہ اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ  یہاں عدت گزارنے کی صورت میں ویزے کی بروقت  تجدید نہ کرانے کی وجہ سےناقابل ِ تلافی نقصان اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے تو اس عورت کے لیے دوسرے ملک جاکر  وہاں اپنے  گھر میں منتقل ہونے کی گنجائش ہے،اور وہاں عدت کے  ایام(چار ماہ دس دن)  میں  بلاضرورتِ شدیدہ گھر  سے باہر نکلنے سے احتراز کیا جائے، تاہم  صورتِ مسئولہ میں بہتر یہی ہے کہ یہیں عدت گزار کر پھر وہاں  کا سفر کیاجائے۔

وفي الدرمع التنوير:

 "(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرحان منه (إلا أن تخرج، أو ينهدم المنزل أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات، فتخرج لاقرب موضع إليه."

وفي الشامية:

 "(قوله: في بيت وجبت فيه) هو ما يضاف إليهما بالسكنى قبل الفرقة ولو غير بيت الزوج كما مر آنفا، وشمل بيوت الأخبية كما في الشرنبلالية.

قوله ( ونحو ذلك ) منه ما في الظهيرية لو خافت بالليل من أمر الميت والموت ولا أحد معها لها التحول والخوف شديدا وإلا فلا ".(كتاب الطلاق،فصل في الحداد،5229،ط:رشيدية)

وفي الهندية:

المعتدة لا تسافر لا للحج ولا لغيره.(كتاب الطلاق،الباب الرابع عشر في الحداد،1535،دارالفكر)

لما في البدائع:

وأما في حالة الضرورة فإن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على متاعها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل ولأن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل.

(كتاب الطلاق،فصل في أحكام العدة،4450،451،ط:دارالكتب) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/44