بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دوران عدت عورت کا امتحان دینے کے لیے جانے کا حکم

دوران عدت عورت کا امتحان دینے کے لیے جانے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے حوالے سے کہ ایک لڑکی عدت طلاق گزار رہی ہے، اس لڑکی نے جمعیت تعلیم القرآن کے تین ماہ کے کسی کورس میں شرکت کی ہے، اب چند دن بعد اس کے کورس کا امتحان ہو گا، جب کہ کورس کروانے والے حضرات اس عدت گزارنے والی لڑکی سے امتحان میں شرکت کے لیے کسی دارالافتاء کا لکھا ہوا فتویٰ مانگ رہے ہیں جس کے بعد وہ امتحان میں شرکت کرسکے گی، پوچھنا یہ ہے کہ کیا عدت کے دوران لڑکی مذکورہ کورس جو تجوید کے حوالے سے ہے، کے امتحان میں شرکت کرسکتی ہے کہ نہیں؟؟

از راہ کرم جواب ارشاد فرمائیں۔ جزاکم الله خیراً

جواب

عدت طلاق کی ہو یا وفات کی دونوں کے دوران عورت کا بلا ضرورتِ شرعی گھر سے نکلنا جائز نہیں، البتہ اگر ضرورت اتنی شدید ہو کہ اُس کے لیے جائے بغیر مسئلہ حل نہ ہوتا ہو جیسے موت واقع ہونے کا خطرہ ہو، یا نان نفقہ کو حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلے، تو فقہائے کرام نے مجبوری کی خاطر عورت ( معتدة الوفاة) کو دن میں گھر سے نکلنے کی اجازت دی ہے، لیکن رات کو گھر واپس آنا بہرحال ضروری ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں تجوید سے متعلق امتحان دینے کے لیے نکلنا کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے، جس کے بغیر چارہ کار نہ ہو، بلکہ عدت کے بعد اگلے سال بھی یہ امتحان دیا جاسکتا ہے، اس لیے عدت کے زمانہ میں امتحان دینے کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی