بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

درس کے دوران نماز جنازہ میں شرکت کرنے کا حکم

درس کے دوران نماز جنازہ میں شرکت کرنے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک قاری صاحب کلاس کے وقت میں نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جائے تو شرعاً ایسا کرنا کیسا ہے؟ اگر وہ قاری صاحب کسی ادارے کے ماتحت ہو اور دوسرا یہ کہ قاری صاحب کی اپنی ذاتی کلاس ہو ( یعنی وہ قاری صاحب حفظ، قاعدہ، ناظرہ اکیلے خود پڑھاتے ہوں، بچوں کی فیس سے ان کی تنخواہ، ہو ان دونوں صورتوں میں مذکورہ مسئلہ کی مکمل تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔

ذاتی کلاس سے مراد یہ ہے کہ کسی انتظامیہ، نگران یا مدرسہ کے ماتحت نہ ہو، بلکہ اپنے ذاتی مکان یا مسجد میں پڑھاتے ہوں۔

جواب

 واضح رہے کہ پڑھانے کے اوقات میں اگر ادارے کی طرف سے قاری صاحب کے لیے نماز جنازہ وغیرہ میں شرکت کی ممانعت ہو، تو پھر قاری صاحب کے لیے نماز جنازہ میں شرکت کرنا مناسب نہیں، اگر ادارے کی طرف سے ممانعت نہ ہو، تو پھر ایسے مسائل میں عرف کا اعتبار ہوتا ہے کہ اگر رشتہ دارو غیرہ کا جنازہ ہو ، یا کسی اور کا ہو، لیکن قریب ہو، جس میں شرکت کرنے سے زیادہ وقت نہیں لگتا اور اس میں شرکت کرے، تو عرف میں عام طور پر اس کی اجازت ہوتی ہے، دور دراز جانا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

اگر قاری صاحب کسی ادارے کے ماتحت نہیں، پھر بھی عرف وعادت کے مطابق عمل کرے، جس سے بچوں کا وقت ضائع نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی