بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی رکھنا واجب ہے

داڑھی رکھنا واجب ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ داڑھی رکھنا سنت ہے یا واجب وفرض ہے؟ اور داڑھی میں ڈیزائن کرنا اور کاٹنااس کے بارے میں کیاحکم ہے؟

جواب

الله رب العزت نے انسانوں کی راہ نمائی کے لیے حضرات انبیاء علیہم السلام کو عملی نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا، اور ان کی اطاعت کو ہم پر لازم فرمایا، تمام انبیاء علیہم السلام، اولیاء اور صلحاء نے داڑھی رکھنے کو فطرت اور مردوں کی زینت کہا ہے۔

قرآن کریم میں حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی کا ذکر آیا ہے، احادیث مبارکہ میں الله تعالیٰ کے پیارے حبیب صلی الله علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے بارے میں آتا ہے کہ ”کان عظیم اللحیة“ اور ”کث اللحیة“ اسی لیے آپ علیہ السلام نے اپنی امت کو ”وفروا اللحیٰ“ اور ”أعفوا اللحی“ کا حکم فرمایا۔

شریعت مطہرہ میں داڑھی رکھنا واجب ہے او رایک مشت اس کی آخری حد ہے اور اس سے کم کرنا جائز نہیں، او رایسا شخص فاسق ہے، جہاں تک داڑھی میں ڈیزائن بنانے کا تعلق ہے ، تو یہ بہت بڑا گناہ ہے، اگر یہ آدمی داڑھی کی توہین اور استہزا کی غرض سے ڈیزائن بناتا ہے تو پھر ایسے آدمی کا ایمان سلامت رہنا دشوار ہے۔

حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مشت سے زائد داڑھی کے بالوں کو کاٹ لیا کرتے تھے، حالاں کہ آپ کی احتیاط اور سنتوں پر عمل مشہور ہے۔

ان کے علاوہ او ربہت سے اصحاب رسول رضی الله عنہمسے یہ بات منقول ہے اور کسی صحابی کا ان کے اس عمل پر انکار ثابت نہیں، تو گویا داڑھی کی مقدار مسنون کی آخری حد پر صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین کا اجماع ہے۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی