بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

سوال

:    کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ فاطمہ کے دو بیٹے ہیں معراج اور افضل ،اور زینب کی دو بیٹیاں ہیں،ایک عائشہ اور دوسری کلثوم ہے،اب فاطمہ نے کلثوم کو دودھ پلایا،اور زینب نے معراج کو دودھ پلایا(نوٹ:ان کے  شوہر الگ الگ ہیں)تو کیا افضل  اور عائشہ کی شادی ہوسکتی ہے؟ اس کو دلائل  کی روشنی میں واضح کریں ۔

جواب 

صورت مسئولہ میں افضل  کا  عائشہ کے ساتھ نکا ح درست ہے ، کیونکہ یہ اس کےنسبی  بھائی کی  بہن ہے۔

لما في المبسوط:

ولو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لأخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها لأنها أختهم من الرضاعة.(باب تفسير لبن الفحل،30337،ط:الغفارية).

وفي البحر:

ولو كانت أم البنات أرضعت إحدى البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن  يتزوجوا  بنات  الأخرى  إلا  الابنة التي  أرضعتها  أمهم وحدها

لأنها أختهم من الرضاعة. (كتاب الرضاع،3/397،ط:رشيدية).

وفي الكنز:

وتحل اخت اخيه رضاعا ونسبا. (كتاب الرضاع،135،ط:رحمانيه).

وفي البحر:    

(وتحل اخت اخيه رضاعا  ونسبا)....فالأول أن يكون له أخ من النسب ولهذالأخ اخت رضاعيه).

(كتاب الرضاع،3396،ط: رشيديه). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/72