بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حرمت مصاہرت سے متعلق چند مسائل

حرمت مصاہرت سے متعلق چند مسائل

سوال

… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس بارے میں کہ زید کے سسرال میں والد اپنی بیٹیوں کو گلے لگا کر ملا کرتے ہیں، جس میں جوان اور شادی شدہ بیٹیوں کے سینے سے والد کا جسم ملتا ہے او راس دوران ہاتھ ملانا اور سر پر ہاتھ رکھنا بھی ایک عام سی بات ہے۔

1..اس صورت میں کثرت سے یہ صورت حال پیش آنے سے کیا کسی کے حق میں حرمت مصاہرت کی کوئی صورت تو نہیں ہوتی؟ نیزشادی شدہ بیٹیوں کا اپنے شوہر سے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑتا ؟

2..اسی طرح کی صورت اگر سسر اپنی بہو کے ساتھ کرے تو کیا حکم ہے ؟

3..اسی طرح بیٹے کا ماں کو گلے لگا کر ملنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

4..جو بچے دوسری بیوی کے ساتھ رہتے ہوں، یعنی وہ اپنی حقیقی ماں کے ساتھ نہیں رہتے او راب بارہ سال کے ہونے والے ہو ں، ان کو حرمت مصاہرت کے بارے میں کس طرح احتیاط کروائی جائے ؟کیا وہ اپنی سوتیلی ماں کے پیر ہاتھ دبا سکتے ہیں؟

5..اس سلسلے میں ان بچوں کو یا ان کی سوتیلی ماں کو کس طرح سے احتیاط کروائی جائے او رکن کن اُمور کا خیال رکھا جائے ،کیوں کہ سوتیلی ماں کے ساتھ اب بڑے ہو رہے ہیں۔ جزاکم الله خیراً

جواب

..1…باپ اور بیٹی کے درمیان چوں کہ پیار ومحبت کا تعلق ہوتا ہے، اس لیے باپ کا پنی بیٹیوں سے ہاتھ ملانا اور سر پر ہاتھ رکھنا جائز ہے ، البتہ فتنے کا زمانہ ہے، اس لیے گلے ملنے سے اجتناب کیا جائے، لیکن اگر باپ بیٹیوں کو شہوت کے ساتھ بغیر حائل ہاتھ لگائے تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہو گی، البتہ شادی شدہ بیٹیوں کے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا ۔

2..سسر کا پنی بہو سے اس طرح ملنا جائز نہیں ہے، اس لیے اس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے، اگر شہوت کے ساتھ ہاتھ لگائے تو حرمت مصاہرت ثابت ہوگی او ربہو اس کے بیٹے کے لیے حرام ہو جائے گی۔

3..فتنے کا زمانہ ہے، بیٹوں کا اپنی ماں کو گلے لگا کر ملنے سے اجتناب بہتر ہے، البتہ اگر شہوت کا ساتھ ہو تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگی، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے۔

4، 5..بچے اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رہ سکتے ہیں، ان کی خدمت بھی کرسکتے ہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ جسمانی خدمت سے پرہیز کیا جائے۔