بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حرام آمدنی والے کے ساتھ قربانی میں شرکت

حرام آمدنی والے کے ساتھ قربانی میں شرکت

سوال

قربانی کے ایک جانور میں شریک شرکا میں سے ایک یا کئی شرکا کی آمدنی اگر بالکل حرام ہو مثلاً بینک ملازم ہو یا حلال و حرام ملا ہوا ہو تو کیا اس صورت میں دیگر شرکا کی قربانی صحیح ا ور درست ہو جائے گی؟

عدم جواز کی صورت میں ایک اشکال یہ ہوتا ہے کہ دینی مدارس میں جہاں اجتماعی قربانی کا اہتمام ہوتا ہے وہاں اس بات کی تحقیق نہیں کی جاتی وہاں کیا صورت ہوتی ہے (اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ عام لوگ مدارس کو جہاں بڑے بڑے علما کرام موجود ہیں دلیل بنا کر اپنے عمل پرمطمئن ہوجاتے ہیں اور انفرادی عمل میں حکم شرع کو معلوم کرنے کی قطعی ضرورت محسوس نہیں کرتے)۔

جواب

 اگر قربانی کے شرکاء میں سے کسی ایک شریک کی آمدنی ساری حرام ہو یا اس میں غالب عنصر حرام کا ہوتو اس کی وجہ سے دوسرے شرکا کی قربانی بھی نہیں ہوگی۔ یہ اس وقت ہے کہ جب آمدنی کے حرام ہونے کا علم ہو۔ اگر علم نہ ہوتو تجسس کی اجازت نہیں لہٰذا اس میں شریک ہونے والوں کی قربانیاں درست ہیں۔ انفرادی سطح پر کی جانے والی قربانیوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ اگر پہلے سے ذریعہٴ آمدنی کا علم ہوتو قربانی ناجائز ہوجائے گی۔لہٰذاایسے شخص کو شریک ہی نہیں کرنا چاہیے۔اگر ذریعہٴ آمدنی کا علم نہ ہو تو پوچھنا اور تفتیش کرنامناسب نہیں۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی