بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حالت حمل میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے

حالت حمل میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی  بیوی کو مرحلہ وار تین طلاقیں بھیجی ،جبکہ وہ  اس دوران حمل سے تھیں،اب وہ کہہ رہی ہے کہ چونکہ میں اس وقت حمل سے تھی ، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی ،اس لیے براہِ مہربانی تحریری طور  پر راہنمائی فرمائیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے ،یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی پر  تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں،کیونکہ حمل اور غیر حمل میں طلاق دینے میں کوئی فرق نہیں ہے،بلکہ  دونوں حالتوں میں طلاق واقع ہوجاتی ہے،اب حلالہ شرعیہ کے بغیر نہ رجوع ممکن ہے، نہ تجدیدِ نکاح۔

لما في الهداية:

وطلاق الحامل يجوز عقب الجماع. (كتاب الطلاق،باب طلاق السنة،2335،رشيدية)

وفي شرح فتح القدير:

وطلاق الحامل يجوز عقيب الجماع لأنه لا يؤدي إلى اشتباه وجه العدة.(كتاب الطلاق، باب طلاق السنة،3460، دارالكتب)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 170/27