بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جیٹھ یا دیور سے بات چیت کرنے، ان کے ساتھ سفر پر جانے اور ان کے کپڑے دھونے کا شرعی حکم

جیٹھ یا دیور سے بات چیت کرنے، ان کے ساتھ سفر پر جانے اور ان کے کپڑے دھونے کا شرعی حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں؟ ایک مشترکہ گھر ہے جس میں چند بھائی رہتے ہیں، بعض بھائیوں کی شادیاں ابھی تک نہیں ہوئی ہیں،اب دریافتطلب امریہ ہے کہ عورت کے لیے اپنے دیور کے ساتھ کتنی حد تک بات کرنے کی گنجائش ہے؟ اسی طرح اپنے دیور کے کپڑے دھونا، اس کے جوتے پالش کرنا، اس کو روٹی تیار کرکے دینا، اس کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس، یا والدین کے گھر جانا جب کہ گھر میں اس کے شوہر موجود نہ ہوں، یا موجود ہوں، لیکن کچھ مجبوری کی بنا پر مثلاً دشمنی ہو، اس کے ساتھ نہیں جاسکتا ہو۔

لہٰذا آج کل کے دور میں اکیلے جانا بہتر ہے یا دیور کے ساتھ؟ اس حوالے سے باقی غیر محارم اور دیور میں فرق ہو گا یا نہیں؟

جواب

حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے منقول ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اجنبی عورتوں کے نزدیک جانے سے اجتناب کرو، جب کہ وہ تنہائی میں ہوں، ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول الله! جیٹھ اور دیور کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ کہ ان کے لیے بھی یہی ممانعت ہے، آپ نے فرمایا: ‘جیٹھ اور دیور تو موت ہیں’۔

‘جیٹھ اور دیور’ کے موت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح موت انسان کی ظاہری اور دنیوی زندگی کو ہلاک کر دیتی ہے اسی طرح جیٹھ اور دیور کا تنہائی میں غیر محرم عورت ( بھابھی) کے پاس جانا اس کی دینی اور اخلاقی زندگی کو ہلاکت وتباہی کے راستہ پر ڈال سکتا ہے، وجہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اپنی عورتوں کے ساتھ جیٹھ اور دیور کے خلط ملط ہونے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کو برا نہیں مانتے، نہ ہی اس کو اہمیت دیتے ہیں، حالاں کہ ان کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنے اور بے تکلفانہ گفت گو کرنے میں فتنہ زیادہ ہے، اس لیے جیٹھ اور دیور کا اپنی بھابی کے پاس ہر وقت آتے جاتے رہنے او ران کے ساتھ بے محابا نشست وبرخاست رکھنے کی وجہ سے ان کا اور دیور کا اپنی بھابی کے ساتھ تنہائی میں رہنا جائز نہیں ہے او ربھابی کو ان سے پردہ کرنے کا حکم ہے ( از مظاہر حق)

مندرجہ بالا حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ جیٹھ اور دیور بھی دوسرے غیر محرم کی طرح اجنبی ہیں، جیسے اجنبی کے ساتھ ضرورت کی حدتک سخت لہجہ میں بات کرنے کی گنجائش ہے ایسے ہی جیٹھ اور دیور سے بھی ضرورت کے وقت بقدر ضرورت بات کرنا درست ہے، البتہ ضرورت سے زیادہ بات چیت کرنا، ان کے ساتھ کمرے میں تنہا بیٹھنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے، اس سے احتیاط کرنا ضروری ہے ، نیز عورت کے لیے اپنے دیور یا جیٹھ کے ساتھ سفر کرنا بھی جائز نہیں ہے، باقی دیور اور جیٹھ کے لیے کھانا بنانا اور ان کے کپڑے دھونا، چوں کہ یہ گھر کے مشترکہ کام سمجھے جاتے ہیں، اس لیے ان کے کرنے میں مضائقہ نہیں ہے، بشرطیکہ فتنے کا خطرہ نہ ہو، جہاں تک جوتے صاف کرنے کا تعلق ہے، تو اس سے بھی بچا جائے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی