بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جینیٹک انجینئرنگ کا حکم

جینیٹک انجینئرنگ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ”الھندسة الوارثیة(Genetic Engineering) کو مختلف امراض کے دفعیہ کی جینز(Genes) بنانے کے لیے کام میں لایا جائے، تو اس کا کیا حکم ہو گا؟ جزاکم الله خیراً

جواب

واضح رہے کہ تجرباتی دنیا میں اب یہ بات ممکن سی ہوگئی ہے کہ اگر کوئی جین کسی خاص بیماری کا سبب ہو تو اسے نکال کر اس کی جگہ دوسرا صحت مند اور تندرست جین لگایا جاتا ہے، اس سے بیماری ختم ہو جاتی ہے، اسے ”الھندسة الوراثیة“ (Genetic Engineering) کہا جاتا ہے، شاید اس عمل کے ذریعے سے کینسر اور ایڈز وغیرہ جیسی لا علاج بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہو سکے، لہٰذا درج ذیل شرائط کے ساتھ علاج ہونے کے سبب اس کی گنجائش ہے:
1..بیماری مہلک ہو یا شدید تکلیف کا باعث ہو۔
2..اگر امراض کے دفعیہ کے لیے نہ ہو بلکہ محض کسی فائدے کے حصول کے لیے ہو تو ستر کھل جانے کا امکان نہ ہو۔
3..لگایا جانے والا جین دوسرے شخص کے جسم سے نہ لیا گیا ہو، بلکہ اس کے اپنے جسم یا کسی حلال حیوان کے جسم سے ہو۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی