بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے جیٹھ اور دیور سے پردہ کا حکم

جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے جیٹھ اور دیور سے پردہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ شرعی پردہ کی حد کیا ہے ؟ آیا  اور ہتھیلی خارج ہے ،یا نہیں ؟ بسا اوقات دیکھا گیا ہے،کہ بعض عالمات  عورتیں اس قدر شدت کرتی ہیں،کہ گھر میں شوہر کے بھائی ،کزن وغیرہ کے سامنے دستانے ،حجاب کے بغیر نہیں آتی ،تو کیا صرف بڑی چادر اوڑھ کر اپنے کام کاج کرسکتی ہے،جبکہ اس کے دیور ،جیٹھ وغیرہ اس جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوں  ۔

جواب

 شریعت میں عورت کو  غیر محرم سے پردہ کرنے کی پر زور تاکید کی گئی ہے ،سر سے لے کر پاؤں تک  تمام جسم کا پردہ  عورت کے  لئے  ضروری ہے، لہذا  صورت مسئولہ میں عورت کا دیور ،جیٹھ   کےساتھ جوائنٹ   فیملی  میں رہتے ہوئے حجاب اور دستانے پہنے رکھنا اچھی بات ہے،ہتھیلی اورہاتھ کھلے رہیں تو بھی کوئی حرج نہیں ،بڑی چادر اوڑھ کر بھی کام کاج کر سکتی ہے،چہرے کو غیر محرم کے سامنے کھولنے سے اجتناب کرے۔

لما في التنزىل:

يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا. (سورة الأحزاب:57)

و في روح المعاني:

وأخرج ابن أبي شيبة وعبد بن حميد عن ابن عباس أنه قال في قوله تعالى : إلا ما ظهر منها رقعة الوجه وباطن الكف وأخرجا عن ابن عمر أنه قال : الوجه والكفان.(سورة النور: الاية 30،18/310،ط:بيروت)

و في الهندية:

يجوز النظر إلي مواضع الزينة الظاهرة منهن،و ذلك الوجه والكف في ظاهر الرواية.

(كتاب الكراهية،5/381،ط:بيروت)

و في الشامية: (فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام، وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة. (قَوْلُهُ وَأَمَّا فِي زَمَانِنَا فَمُنِعَ مِنْ الشَّابَّةِ) لَا لِأَنَّهُ عَوْرَةٌ بَلْ لِخَوْفِ الْفِتْنَة. (كتاب الحظر والإباحة،9/610،ط:رشيدية)  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/315