بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جعلی طلاق نامہ بنوانے سے وقوع طلاق کا حکم

جعلی طلاق نامہ بنوانے سے وقوع طلاق کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں تقریباً  عرصہ دو سال سے امریکہ میں کام کررہا ہوں  اور اس عرصہ میں میں پاکستان نہیں آیا  ، اگر آتا ہوں   تو واپس امریکہ نہیں جاسکتا  یہاں پر رہنے کے لیے کاغذات چاہیں  ،جو کہ ایک صورت میں بن سکتے ہیں کہ میں یہاں شادی کرلوں  ،کیونکہ میں پہلے شادی شدہ ہوں اس لیے یہاں شادی کے لیے مجھے  طلاق نامہ یا بیوی کا ڈیتھ سرٹیفکٹ  جمع کرانا پڑے گا جو کہ پاکستان نادرا  دے گا، اور جو کہ  جعلی ہوگا ،پوچھنا یہ ہے کہ  کیا جعلی طلاق نامے  سے صحیح  طلاق   تو واقع نہیں ہوجائے گی۔ برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں  تکاکہ میری پریشانی کا حل نکلے  ،آپ کا بہت بہت شکریہ ۔

جواب

         واضح رہے کہ جعلی طلاق نامہ بنوانے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ،البتہ طلاق سے بچنے کیے لیے یہ صورت ہوسکتی ہے کہ طلاق نامہ بنوانے سے پہلے آپ اس بات پر دو گواہ بنا لیں کہ میں نے نہ طلاق دی ہے ،اور نہ آئندہ طلاق دینے کا  قصد ہے،پھر طلاق نامہ میں ایسے الفاظ لکھے جائیں جو ماضی کی خبر پر دلالت کرتے ہوں ،جیسے:” پہلی بیوی کو طلاق دی ہے” یا” طلاق دے چکا ہوں "،ایسے الفاظ نہ لکھےجائیں جو زمانہ حال پر دلالت کرتے ہوں ،جیسے:” طلاق دیتا ہوں” یا”طلاق دے رہا ہوں "۔

لما في التنوير:

قال أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء إلا إذاأشهد على ذلك.(كتاب الطلاق،باب طلاق غير المدخول بها:4/510،رشيدية)

و في البحر:

في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء ا هـ وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا أشهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة.(كتاب الطلاق:3/428،رشيدية)

و في رد المحتار:

لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا فقال في البحر إن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة ثم نقل عن البزازية والقنية لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا.

(كتاب الطلاق،مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه،ص:4/431، ط:رشيدية) ۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/69