بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تنخواہ مجہول ہونے کی صورت میں اجارہ کا حکم

تنخواہ مجہول ہونے کی صورت میں اجارہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید ایک ڈاکٹر کے ساتھ ملازمت کر رہا ہے، جس کو عوامی اصطلاح میں اسسٹنٹ کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر زید کو کوئی مستقل تنخواہ نہیں دیتا، بلکہ ٹیسٹ اور ایکسرے پر جو ڈاکٹر کی کمیشن ہوتی ہے و ہی زید کی تنخواہ ہوتی ہے،اب زید اس تنخواہ یعنی اس کمیشن کے پیسے سے کلینک کا کرایہ او ربجلی کا بل بھی ادا کرتا ہے۔
اب زید کے لیے ایسی تنخواہ لینا جائز ہے جو کہ بذریعہ مجہول کمیشن حاصل ہو رہی ہے ؟او راگر جائز نہیں ہے تو برائے مہربانی جائز صورت بتائیں۔
برائے مہربانی قرآن واحادیث کی روشنی میں جواب دیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس معاملہ کا ذکر ہے وہ اجارہ کا معاملہ ہے اور اس معاملہ کے درست وصحیح ہونے کے لیے منجملہ دیگر شرائط کے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اجرت (تنخواہ) معلوم ہو، ورنہ عقدِ اجارہ فاسد ہو جاتا ہے، صورتِ مسئولہ میں چوں کہ تنخواہ مجہول ہے، اس لیے یہ اجارہ فاسد ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ ملازم (زید) اجرتِ مثلی(جو عام طور پر اس جیسے ملازم کی اجرت ہوتی ہے) کا مستحق ہے۔

اس کی جائز صورت یہ ہے کہ ٹیسٹ او رایکسرے کا کمیشن ڈاکٹر خود وصول کرے اور کلینک کا کرایہ او ربجلی کا بل بھی ڈاکٹر اداکرے، البتہ ملازم کے ذمہ جو کام ہوں گے، ان کی تعیین کی جائے اور اس کے لیے معلوم تنخواہ مقرر کی جائے اور کسی قسم کا کرایہ وبل وغیرہ اس کے ذمہ نہ ڈالا جائے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی