بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تمہیں رنّ طلاق ہے کہنے سے طلاق کا حکم

تمہیں رنّ طلاق ہے کہنے سے طلاق کا حکم

سوال

یا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں یہ بیان حلفیہ لکھ رہی ہوں کہ میرے سسر کی وفات کے بعد پہلی عید الفطر کے دن جب میں نے کپڑے پہنے تو  میری ساس نے  میرے شوہر کو کہا کہ یہ ایسے کپڑے پہن کر ہمیں جلارہی ہے،انہوں نے  میرے خلاف اور بھی باتیں میرے شوہر سے کیں، جو میں سن کر خاموش ہوگئی اور شوہر کو اسی وقت بتایا کہ میرے پاس پہننے کے لائق اور کپڑے  نہیں تھے،اس لیے یہ کپڑے پہنے جو میں پہلے بھی بہت بار پہن چکی ہوں،اس کے باوجود  میرے شوہر نے کمرے میں آکے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور میرا دوپٹہ بھی  چھین کر  جلادیا ، پھر تھوڑی  دیر کے بعد  جب میں نے  کہا کہ آپ ماں کے اُکسانے پر بیوی کو مارنے لگ گئے، تو میرے شوہر نے کہا کہ اگر میں نے ماں کے اکسانے پر یہ کیا ہے تو  تمہیں رن طلاق،میں نے پھر کہا مجھے کیوں اپنی  بہنوں کو طلاق دلوائیں،تو جواباً انہوں پھر کہا کہ  نہیں بس تمہیں ہے ،میں یہ دیکھ اور سن چکی تھی کہ ماں نے ہی ان کو  اکسایا تھا، میں اس وقت چھ  مہینے کی حاملہ تھی اور حمل کے دوسرے مہینے سے ہی میرے شوہر نے مجھے کہنا شروع کردیا تھا، کہ مجھے ابھی شریعت اجازت نہیں دیتی ،لہذا بچہ پیدا ہونے کے بعد میں تمہیں فیصلہ دے دوں گااور طلاق دینے کے بعد بھی مجھے میرا شوہر یہ الفاظ کہتا رہا کہ تمہیں فیصلہ دے دوں گا اس لیے میں سمجھی کہ  ابھی حمل میں طلاق مؤثر نہیں ہوئی،پھر میرے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ،پیدائش کے تیسرے دن ہی  میں نے اپنے والدین کو یہ بات بتائی،،تو انہوں نے کہا کہ یہ طلاق اب مؤثر ہوچکی ہے اور جب انہوں نے میرے شوہر سے اس بارے میں پوچھا تو وہ انکاری ہوگیا اور کہنے لگا کہ میں نے کوئی طلاق نہیں دی ،میں قرآن اٹھاتا ہوں، جبکہ وہ دو دفعہ کہہ چکا تھا،پھر میں اپنی چار سالہ بیٹی اور بچے کو لے کر اپنے والدین کے ساتھ آگئی،شریعت کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟میری راہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ حمل کے دوران بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، صورت مسئولہ میں اگر کسی غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا ، تو جب آپ کے شوہر نے یہ الفاظ کہے کہ تمہیں رن طلاق ، تو  اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ، آپ کے شوہر دوران  عدت ( بچے کے پیدا ہونے سے پہلے ) رجوع کرسکتے تھے ، عدت گزر جانے کے بعد  چونکہ اب رجوع ممکن نہیں،لہذا  اگر آپ چاہیں تو تجدید نکاح کرکے اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہیں ، لیکن اس کے بعد آپ کے شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار باقی ہوگا، البتہ  آپ کے شوہر کایہ کہنا کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد فیصلہ دے دوں گا، چونکہ وضع حمل کے بعد انہوں کوئی فیصلہ یا طلاق نہیں دی ، لہذا اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ 

لما في الهداية:

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض لقوله تعالى { فأمسكوهن بمعروف } من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي وهذا صريح (كتاب الطلاق،باب الرجعة:2/373،ط:أمير حمزة)

  وفي البدائع:

أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله أنت طالق أو أنت الطلاق أو طلقتك ......فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها.(كتاب الطلاق،فصل في شرط النية في الكناية:4/216،ط:دارالكتب العلمية)

وفي التنويرمع الدر:

( هي ) استدامة الملك القائم في العدة ) أي الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة..... (و) تصح (بتزوجها في العدة) به يفتى...... (إن لم يطلق بائنا) فإن أبانها فلا. (كتاب الطلاق،باب الرجعة:5/29،26،رشيدية)

 وفي المبسوط:

فأما إذا قال لها: أنت طالق فقال له إنسان: ماذا قلت فقال: قد طلقتها، أو قال: قلت هي طالق فهي طالق واحدة؛ لأن كلامه الثاني جواب لسؤال السائل، والسائل إنما يسأله عن الكلام الأول لا عن إيقاع آخر فيكون جوابه بيانا لذلك الكلام.(باب من الطلاق:6/99،ط: دارالمعرفة)

  وفي الشامية:

     أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له نقصان العدد، فأما زوال الملك وحل الوطءفليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال بل بعد انقضاء العدة، وهذا عندنا.(كتاب الطلاق:3/227،ط:سعيد)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:169/257