بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعزیت کا مسنون طریقہ

تعزیت کا مسنون طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میت کے گھر پر جا کر دعا کرنا کیسا ہے؟ ہمارے علاقہ میں بہت زیادہ اختلاف چل رہا ہے، بعض حضرات کچھ نہیں کہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے گھر پر جاکر ایصال ثواب کے لیے دعا کرتے ہیں، او ربعض حضرات میت کو دفن کرنے کے بعد اعلان کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دعا کے لیے آتا ہے تو وہ نہ آئے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ متنفر ہو جاتے ہیں او رکہتے ہیں یہ بدعت ہے؟ لہٰذا اس بارے میں مدلل او رمفصل تحریر فرماکر ممنون فرمائیں۔

جواب 

تعزیت کا مقصد اقارب میت کے ساتھ غم خواری کرنا، ان کو صبر کی تلقین کرنااور تسلی دینا ہے، اس کے لیے حدیث شریف میں یہ دعا“:”أعظم الله أجرک وأحسن عزائک وغفرلمیتک“ ثابت ہے، اس موقع پر یہ دعا پڑھنا مسنون ہے، اس کے علاوہ اس طرح کا کوئی دوسرا مضمون بھی اختیار کیا جاسکتا ہے، جس سے اقاربِ میت کا غم ہلکا ہو، تسکین ہو اور فکر آخرت پیدا ہو، یہی تعزیت کی اصل حقیقت ہے، البتہ مروجہ طریقہ پر ہاتھ اٹھا کر اجتماعی طور پر دعا کرنا، یا میت کے ورثاء کا آنے والے لوگوں سے کہہ کر اس طرح دعا کروانا ثابت نہیں، اس سے اجتناب کرنا چاہیے، اس میں اختلاف نہ کیا جائے ایک دوسرے کو نرمی سے بتا دیں کہ ایسا نہ کریں، مروجہ طور طریقوں سے بچتے ہوئے اہلِ میت کے گھر پر جا کر تعزیت کی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی