بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصویر اور لائیو ویڈیو کا حکم

تصویر اور لائیو ویڈیو کا حکم

سوال

ذی روح اور غیر ذی روح کی تصویر کے بارے میں جائز ہے ، یا  ناجائز؟اس کا جواز اور  عدم جواز قرآن و حدیث سے ثابت کریں۔ ایا اس بارے میں کچھ ضرورت کے مستثنیٰ ہیں ،یا نہیں؟نیز لائیو ویڈیو کا کیا حکم ہے؟مکمل راہنمائی فرمائیں

 

جواب

:          واضح رہے کہ ہر قسم کے جاندار (ذی  روح ) کی تصویر بنانا یا رکھنا  خواہ  وہ کسی بھی شکل میں ہو چاہے وہ ڈیجیٹل ہو  یا غیر  ڈیجیٹل ہو بہر صورت ناجائز ہے،نیز براہ راست نشر ہونے والا   ویڈیو  (LIVE VIDEO)  میں بھی تصویر کشی پائی جانے کی وجہ سے  ناجائز ہے، البتہ غیر ذی  روح کی تصویر  بنانے اور رکھنے میں کوئی  گناہ نہیں ، نیز اگر تصویر کسی ضررت کی بنا  پر  بنائی جائے یا ایسی مجبوری ہو کہ اس کے بغیر گذارا نہ ہو جیسے : شناختی کارڈ کے لیے ، پاسپورٹ کے لیے یا ویزا حاصل کرنے کے لیے  یا ایسے مواقع پر جہاں انسان کے چہرے کی شناخت ضروری ہو ، تو اس وقت تصویر بنانے کی گنجائش ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 169/01