بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیٹی کو شہوت کی حالت میں چھونے سے بیٹی کی سوتیلی ماں کے نکاح کا حکم

بیٹی کو شہوت کی حالت میں چھونے سے بیٹی کی سوتیلی ماں کے نکاح کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص اپنی بیٹی کو شہوت سے ہاتھ لگاتا ہے،تو اس کی  بیوی ( بیٹی کی سگی ماں ) اس شخص پر حرام ہوجاتی ہے،لیکن اگر  اس شخص کی دو بیویاں ہوں ،تو  اس شخص کی دوسری  بیوی (بیٹی کی سوتیلی ماں) کا کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ بھی حرام ہوجائے گی؟ راہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

صورتِ مسئولہ میں  بیٹی کی  سوتیلی  ماں  شوہر پر حرام نہیں ہوگی ۔

لما في الدر:

(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنى الوطئ الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة)". (كتاب النكاح،فصل في المحرمات،4114،رشيدية)

وفي الهداية:

ومن مسته امرأة بشهوة حرمت عليه أمها وبنتها وقال الشافعي رحمه الله لا تحرم وعلى هذا الخلاف مسه امرأة بشهوة ".(كتاب النكاح،فصل في المحرمات،2289،اميرحمزة)

وفي فتح القدير:

لو أيقظ زوجته ليجامعها فوصلت يده إلى بنته منها فقرصها بشهوة وهي ممن تشتهي يظن أنها أمها حرمت عليه الأم حرمة مؤبدة. ".(كتاب النكاح،فصل في المحرمات،3213،دارالعلمية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/238