بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیوی کو بیہودہ محافل سے روکنے کا حکم

بیوی کو بیہودہ محافل سے روکنے کا حکم

سوال

میں اپنی اہلیہ کو کسی ایسی تقریب میں نہیں جانے دیتا جہاں مووی، فلم، فوٹو گرافی، چالیسواں، سوئم وغیرہ خرافات ہوں ، میرے اس معاملہ پر میرے والدین، میری اہلیہ، میرے سسرال کا کہنا ہے کہ تم ان پر ظلم کرتے ہو اور اس کی وجہ سے میں اور میری اہلیہ دوسرے عزیز واقارب سے دور ہوتے جاتے ہیں ،کیوں کہ ان کی کوئی بھی تقریب خوشی اور غمی کی ایسی نہیں جس میں الله کے احکامات کو نہ توڑا جاتا ہو اور سنت کو ذبح نہ کیا جاتا ہو، میں خود کو اور اپنے اہل خانہ کو الله کی رضا کے لیے ان خرافات سے بچانے کے لیے یہ راہ اختیار کرتا ہوں ۔ اب آیا میرا یہ معاملہ قطع تعلقی میں شامل ہے یا نہیں؟ اور میرے والدین اور سسرال کا ظلم کہنا کس حد تک درست ہے؟

جواب

اس پرفتن دورمیں آپ کا اپنی اہلیہ کو ان بیہودہ اور نامناسب قسم کی محافل میں شرکت سے روکنا بجا، شریعت کے مطابق اور بڑی ہمت کی بات ہے، کیوں کہ اس قسم کی محافل میں کسی کو بھی شرکت کرنا جائز نہیں، چوں کہ ایسی محافل میں کئی قسم کے اعمال قبیحہ ہوتے ہیں جو خلاف شریعت اورالله تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہونے کی بنا پر موجب لعنت ہیں۔ آپ کے رشتہ داروں اور گھر والوں کا یہ کہنا کہ یہ ظلم ہے صحیح نہیں ہے ،بلکہ آپ کا یہ فعل الله تعالیٰ کے یہاں عین انصاف ہے ۔ البتہ کسی کے کہنے میں آکر اس طرز عمل کو چھوڑ دینا ظلم ہو گا۔

آپ اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کو بہت حکمت کے ساتھ سمجھائیں کہ اس قسم کی محافل میں عام طور پر غلط اعمال کی وجہ سے الله تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند عالم دین کے چند رسائل لے کر ان کو دے دیں، تاکہ ان کو خود اس طرح کی محافل ومجالس سے بچنے کا احساس پیدا ہو ۔الله تعالیٰ آپ کو استقامت اور آپ کے اہل خانہ واقارب کو ہدایت نصیب فرمائے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی