بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیوی کا شوہر کے بغیر والدین کے گھر جانا اور نفقہ کا مطالبہ کرنا

بیوی کا شوہر کے بغیر والدین کے گھر جانا اور نفقہ کا مطالبہ کرنا

سوال

کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری شادی کو تقریباً چار ماہ ہوئے ہیں ، میری بیوی میری مرضی کے بغیر اپنے والدین کے کہنے پر اپنے والدین کے گھرجاکر بیٹھ گئی ہے اور اسے اتنا بھی خیال نہیں ہے کہ وہ میرے ہونے والے بچے کی ماں ہے ، اس کا تقریباً چوتھا ماہ چل رہا ہے ، اس سے پہلے بھی وہ دو مرتبہ اپنے والدین کے گھر جاکر بیٹھ چکی ہے اور اس کے والدین اسے گھر بٹھاکر خرچہ مانگتے ہیں، چناں چہ ہم اسے دو مرتبہ صلح کرکے اپنے گھر لائے تھے اور میں نے اس کی تمام ضروریات کا خیال رکھا تھا، لیکن اس کے والدین مزید مطالبات کرتے تھے او راپنی کچھ شرائط منوانا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے اس کو گھر بیٹھالیا اور خلع کا مطالبہ کر دیا ہے اور اس کے ساتھ خرچہ بھی مانگا ہے، چناں چہ میری راہ نمائی فرما دیں کہ ان حالات میں خلع ہو جاتی ہے؟ او راگر خلع ہو جائے تو جو بچہ ہونے والا ہے اس کی ذمہ داری میری ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ رشتہٴ ازدواج ایک مقدس رشتہ ہے ، اس کو حتی الوسع نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے، تاہم اگر کبھی کوئی اختلاف وغیرہ آجائے تو میاں بیوی کو چاہیے کہ خود اختلاف کو ختم کریں، اگر اس طرح ممکن نہ ہو، تو دونوں خاندانوں کے بڑوں کے ذریعے صلح کرواکر اختلاف کو ختم کریں، اگر یہ بھی نہ ہو سکے، بلکہ معاملہ اس حدتک پہنچ جائے، کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کو تیار نہ ہوں او رنہ ایک دوسرے کے حقوق اداکرسکتے ہوں، تو پھر شریعت نے خلع یا طلاق کے ذریعے جدائی کی اجازت دی ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں خلع کرنا شوہر کی اجازت سے جائز ہے اور اس کے بعد جو بچہ پیدا ہو ، اس کی پرورش کا حق سات سال تک اس کی ماں کو حاصل ہے، البتہ اس کا خرچہ والد کے ذمے لازم ہے، شوہر کی رضا مندی کے بغیر عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کرنے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی