بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیوی اور بچے کے خرچ، نیز منکوحہ عورت کا دوسری جگہ نکاح کرانے کا حکم

بیوی اور بچے کے خرچ، نیز منکوحہ  عورت کا دوسری جگہ نکاح کرانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری دو بیٹیاں ہیں، دونوں کی شادی ایک گھرانے میں ہوئی ہے او ران دونوں لڑکوں کے والد کا نام … ہے اور یہ چھ ماہ تک ان کے ساتھ صحیح تھے ، لیکن ا س کے بعد ان کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کر دیا او ران دونوں کو آدھی رات کو گھر سے بُرا بھلا کہہ کر دو دفعہ نکالا، ان کے سسر او ران کی زوجہ دونوں آئے تھے کہ ہم ان کو لے جانے کے لیے نہیں آئے اور ان کو مورخہ 12/03/2016 سے اب تک چھ ماہ گزر گئے ہیں، نہ ان کو ماہانہ خرچ دیا ہے اور بڑی بیٹی کو یرقان ہوا، جناح ہسپتال میں آٹھ دن تک ایڈمٹ رہی، نہ اس کا شوہر اس کو دیکھنے آیا اور نہ ہی اس کے گھر والے آئے۔

اوربڑی بیٹی کے بیٹے کی پیدائش مورخہ21/08/2016 کو ہوئی، نہ تو اس کا شوہر بچے کو دیکھنے آیا اور نہ ہی اس کے گھر والے آئے اور نہ ہی پیدائش کا خرچہ دیا۔ اب ان سے کہا گیا ہے کہ ماہانہ خرچہ دیں تو کہتے ہیں کہ نکاح نامہ میں کوئی خرچے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے ہم اس کا خرچہ دینے کے پابند نہیں او رجب شادی ہوئی تھی تو حق مہر میں نے ان کے ایمان پر چھوڑ دیا۔
1..ان کے بڑے بیٹے کی بیوی کا حق مہر10 تولہ سونا لکھا ہوا ہے۔
2..ان کے دوسرے بیٹے کی بیوی کا 5 تولہ سونا اور ماہانہ2000 روپے لکھا ہوا ہے۔
 3..ان کے تیسرے بیٹے اور اس کی بیوی کا حق مہر3 تولہ سونا لکھا ہوا ہے۔
 4..ان کے چوتھے بیٹے اور اس کی بیوی کا حق مہر3 تولہ سونا لکھا ہوا ہے۔
ان کے سسر اور ان کی زوجہ کہتی ہیں نہ ان کو لے کر جاتے ہیں اور نہ ہی ان کو طلاق دیتے ہیں۔ یہ ساری عمر بیٹھی رہیں۔ اور نہ ہی ہم ان کو ماہانہ خرچہ دیں گے، آپ اسلامی نقطہ نظر سے فتوی دیں:

1..کیا بڑا بیٹا اپنی بیوی اور اپنے بچے کا خرچہ دینے کا پابند ہے؟ اور یہ بچی اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے او رلڑکی کے والد کا مطالبہ ہے کہ جس مکان میں لڑکی رہے گی اس مکان کو اسی کے نام کیا جائے۔
2..چھوٹی بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔
3..اگر یہ میرے مطالبات نہیں مانتے تو کیا میں اپنی دونوں بیٹیوں کی شادی دوسری جگہ کر سکتا ہوں؟ اسلامی نقطہ نظر سے فتوی دیں۔

جواب

دین اسلام میں نکاح کے بعد مرد اورعورت کے درمیان زوجیت کا جو اہم رشتہ قائم ہوتا ہے ا س کا بنیادی مقصد دونوں کا ایک پرسکون زندگی گزارنا ہے، جس میں ایک طرف خاوند کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرکے بیوی کی بنیادی ضروریات اور حقوق کو ادا کرے، تو دوسری طرف بیوی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ خاوند کی جائز کاموں میں اطاعت اور اس کا دِل جیتنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے۔

جب خاوند اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے حقوق اور عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے زندگی گزاریں گے تو یقینی طور پر دونوں کی زندگی خوش گوار اور پُرسکون گزرے گی اور ساتھ ہی ساتھ دونوں کی اولاد کی تربیت بھی اچھی ہو گی۔

لیکن اگر خدانخواستہ معاملہ اس کے برعکس ہو اور دونوں ایک دوسرے کے حقوق ادا نہ کر رہے ہوں ، جس کی وجہ سے دونوں کا آپس میں نباہ کرنا مشکل ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں دونوں خاندانوں کے سربراہوں کو چاہیے کہ آپس میں مل بیٹھ کر، باہمی مفاہمت سے میاں بیوی کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں، تاکہ دونوں کے درمیان صلح جوئی ہو او رپھر سے دونوں خوش حال زندگی گزارسکیں۔

لہٰذا ذکر کردہ صورت حال میں اولاً آپ اوران کے سسر مل بیٹھ کر اپنے بچوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں، الله تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ جب آپ دونوں منصف بن کر اصلاح کی نیت سے کوشش کریں گے تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔

آپ کے سوالات کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں:
1..جو عورت خاوند کے ساتھ رہے گی اس کا نان ونفقہ (خرچ، رہائش وغیرہ) خاوند کے ذمے لازم ہے، اسی طرح بچے کا خرچ بھی باپ کے ذمے ہے ،عورت کو نکاح کے بعد خاوند سے ایک ایسے الگ کمرے کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے جس کا مکمل انتظام عورت کے ہاتھ میں ہو۔

2..جب تک آپ کی بچیاں اپنے خاوندوں کے نکاح میں ہیں تب تک آپ ان کا نکاح دوسری جگہ نہیں کر سکتے، اگرچہ وہ آپ کے مطالبات پورے نہ کر رہے ہوں، تاہم اگر ان کے خاوند ان کو طلاق دے دیں، یا باہمی رضامندی سے خلع کے لیے تیار ہو جائیں تو پھر بچیوں کی عدت پوری ہونے کے بعد آپ ان کا نکاح دوسری جگہ کر سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی