بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیوی اور اولاد کا نافرمان ہونا

بیوی اور اولاد کا نافرمان ہونا

سوال

یا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان چنددنوں سے بات چیت وغیرہ بند تھی، کیوں کہ وہ بغیر بتائے اپنی مرضی سے کبھی بھی اپنے بچوں کے ساتھ چلی جاتی تھی ،میں نے اپنی بیگم سے کہا کہ آپ کم سے کم بتا کر تو جائیں، تو مجھ سے کہنی لگی میں کسی کو نہیں بتاتی، ایک دن ایک شادی میں جارہی تھی تو میں نے کہا کہ کہاں جارہی ہو؟ تو انہوں نے بتایا کہ فلاں عورت کی بیٹی کی شادی ہے وہاں جارہی ہوں، میں نے کہا اور کون کون جارہا ہے؟ تو میری بیگم نے کہا کہ میری بیٹی اور بیٹا جائیں گے اور بیٹی۔ بیٹے نے مجھے نہیں کہا کہ آپ بھی چلیں گے رات کے وقت اور پھر میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ گھر میں کھانے کو نہیں ہے کھانا لے کر آنا، بیگم نے کہا ٹھیک ہے، تقریباً رات کو دو بجے آئے، میں نے کہا کھانا لائے؟ تو کہا کہ کم پڑ گیا تھا، میں نے کہا ٹھیک ہے، میں رات کو بھوکا سو گیا، صبح اٹھا تو انہوں نے ناشتہ بنایا، میں نے کہا ناشتہ دے دو تو کہنے لگی خود لے لو ، میری یہ دوسری شادی ہے،بعض دفعہ اگر نماز نکل جاتی ہے تو میں نماز گھر میں ادا کرتا ہوں تو یہ باہر موبائل زور زور سے چلاتی ہیں جس سے مجھے نماز پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے ، اس بارے میں جب میں نے اپنی بیگم کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ میں سمجھاؤں گی نماز کے ٹائم موبائل کی آواز کم کر دیا کرو جس کی وجہ سے ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہوتی رہی۔ میرے تین بچے ہیں سوتیلے، تینوں جوان ہیں، ایک بیٹی ہے جو کہ اپنی تصاویر فیس بک پر لگاتی ہے، جس سے میری دوسری بیگم کے بچے مجھے برا بھلا کہتے ہیں، دو جوان سوتیلے بیٹے ہیں جو کہ رات بھر جاگ کر موبائل چلاتے رہتے ہیں اور صبح سوتے ہیں اور کوئی بھی کام نہیں کرتے، ان تمام معاملوں سے بیزار ہو کر میں نے اپنی بیگم کو کہا کہ میں گھر چھوڑ کر چلا جاؤں گا، میں نے اپنا سامان باندھا اور میں نے باہر جاتے ہوئے اپنی بیگم سے کہا کہ آپ صحیح نہ ہوئے تو میں آپ کو طلاق دے دوں گا، یہ بول کر میں جاہی رہا تھا کہ میری سوتیلی بیٹی نے سوتیلے بیٹے کو اٹھایا کہ ابا نے اماں کو طلاق دے دی ہے ، جب کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ،میں ناراض ہو کر اپنے گھر جاتا تھا اور آتا تھا، مفتی صاحب میرے دو سوتیلے بیٹے رات جاگ کر فحاشی پر مبنی فلمیں دیکھتے ہیں اور نماز دین کی کوئی بھی بات گھر میں نہیں کی جاتی، جناب والا میں گھر کا کرایہ ادا کرتا ہوں، میری بیگم بیوٹی پارلر چلا کر گھر کا خرچہ چلاتی ہے اور یہ دونوں بیٹھ کر صرف کھانا کھاتے ہیں ،لہٰذا میں مفتی صاحب سے گزارش کرتا ہوں مجھے ان تمام مسئلوں کا حل بتائیں، نیز جو کہ جھوٹی بات میرے خلاف طلاق کے معاملے میں کی گئی اس کا بھی حل بتائیں۔

جواب

اسلامی تعلیمات کے مطابق میاں بیوی کے باہمی مقدس رشتہ کی بقاء کی خاطر دونوں کو ایک دوسرے کے مزاج وطبیعت کے مطابق اپنی زندگیوں کو خوش سے خوش تر بنانے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، لہٰذا شریعت مطہرہ نے دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق واجب کیے ہیں، اگر ایک طرف شوہر پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے نان ونفقہ او رسامان راحت کا بندوبست کرے تو دوسری طرف بیوی پر بھی لازم ہے کہ وہ شوہر کی خدمت واطاعت، راحت وسکون کو اپنی ہر خواہش پر مقدم رکھے۔

چناں چہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ”اگر میں کسی انسان کے لیے سجدہ کرنے کا حکم کرتا تو عورت کو حکم کرتا کہ و ہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔

اور ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ :”جو عورت اپنے شوہر کی نافرمان ہو اور شوہر اس سے ناراض ہو تو وہ عورت الله تعالیٰ کی رحمت سے دور رہتی ہے تاوقتیکہ وہ شوہر کو راضی نہ کر لے۔“

اور حضرت انس رضی الله عنہ کی روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ :”جس عورت نے اپنی پانچ نمازوں کو ادا کیا اور اپنے روزوں کو رکھا او راپنے آپ کو پاک دامن رکھا او راپنے خاوند کی مکمل اطاعت کی ، تو وہ عورت جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوسکتی ہے۔

ان مذکورہ بالا روایات کے علاوہ شوہر کی نافرمانی اور اُس کی ناراضگی پر بے شمار وعیدیں اور شوہر کی فرماں برداری اور اطاعت پر لاتعداد وعدے ہیں۔

نیز میاں بیوی دونوں پر ایک مشترکہ حکم یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تعلیم اور اصلاحی تربیت کا انتظام واہتمام کریں، تاکہ مستقبل میں وہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں نہ کہ وبال جان، لہٰذا اپنی اولاد کو ہر قسم کے نیک او راچھے کاموں کی ترغیب دیں اور اسی طرح علماء کرام اور تبلیغی جماعت میں شرکت کی ترغیب دیں، بلکہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں اور ہر برُے کاموں سے پیار ومحبت یا پھر سختی سے روکیں، بالخصوص اس پُر فتن دور میں سمارٹ موبائل جیسی نحوست سے۔

او رجہاں تک تعلق ہے الفاظ طلاق کا تو اگر واقعتا آپ نے مستقبل کے الفاظ” اگر آپ صحیح نہیں ہوئے تو میں آپ کو طلاق دے دوں گا“ استعمال کیے ہیں تو یہ طلاق کی دھمکی ہے نہ کہ طلاق، لہٰذا اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی او راگر کچھ اور الفاظ استعمال کیے ہیں تو ان کا یہ حکم نہیں ہے۔