بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بینک سے قرض لے کر ا سکے بدلے ان کو نفع دینا

بینک سے قرض لے کر ا سکے بدلے ان کو نفع دینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ وزیر اعظم کی جانب سے غریب لوگوں کے لیے گھر کی  اسکیم نکالی  گئی ہے،کہ بینک سے قرض لیں اور کرائے کی جگہ قسط ادا کریں،ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ رقم بغیر سود کے ہے ،جب بینک سےمعلوم کیا تو پتا چلا کہ بینک اپنا پرافٹ لے گا،اب آپ بتائیں کہ یہ رقم سود میں شامل ہو گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کے کہنے پر سود کے حکم میں تبدیلی نہیں آتی ہے، بلکہ شریعت مطہرہ میں سود کو حرام  قرار دیا ہے، نبی کریمﷺ نے سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت فرمائی ہے، لہذا ہر حال میں سودی لین دین سے بچنا ضروری ہے۔

   صورت مسئولہ میں بینک سےقرض لے کر اس پر بینک کو پرافٹ(منافع) دینا یہ سود ہے، جس کا نصوص شرعیہ سے حرام ہونا   ثابت ہے، لہذا ہاوس اسکیم کے تحت بینک سے قرض لینے سے اجتناب کیا جائے۔

لما في التنزيل:

   { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَة}(سورة آل عمران:130)

وفي صحيح مسلم:

   عن جابر قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء.(كتاب البيوع ،باب لعن آكل الربا ومؤكله, رقمالحديث:1598, ص:697,ط:دارالسلام)

وفي الهندية:

   وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم.(كتاب البيوع، الباب التاسع:فيما يجوز بيعه ومالايجوز،الفصل السادس:في تفسير الربا وأحكامه،3/118،دارالفكر). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 168/11