بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا

بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا

سوال

گزارش یہ ہے کہ عرصہ چھ سال سے میری بیوی شوگر کی مریضہ ہے، اب چوں کہ بیماری پرانی ہونے کے ساتھ ساتھ کمزوری بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے، علاج وغیرہ بھی خاصی حد تک کیاہے، گزشتہ سال رمضان المبارک میں صحت کچھ اچھی تھی تو بیوی نے روزے رکھنے شروع کردئیے مگر ابھی چودہ روزے ہی رکھے تھے کہ شدید بیمار ہوگئی جس کی وجہ سے اس کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑا، روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کے پانی پینے کی نالی کا منہ بند ہوگیا، شام کو جب وہ پانی پیتی تو پانی اپنی صحیح جگہ جانے کے بجائے پورے پیٹ میں پھیل جاتا ،بڑی مشکل سے ڈاکٹروں نے پیٹ سے پانی نکالا، سولہ روزے قضا ہوگئے،اب ایسی حالت میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ اور آئندہ روزوں کی قضاء بھی بظاہر مشکل ہے، کیوں کہ کمزوری اس کی پہلے سے زیادہ ہے، آیا قضاء روزے رکھنے لازم ہیں یا فدیہ وغیرہ دے دیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں روزہ رکھنے سے اگر بیماری میں اضافے کا خطرہ ہے تو شرعاً ان کو اجازت ہے کہ وہ صحت مند ہونے تک روزہ نہ رکھیں، جب ٹھیک ہو جائیں تو ان چُھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ء کریں، البتہ اگر صحت مند ہونے کی کوئی امید نہ ہو اور آخر دم تک روزہ رکھنے کی طاقت لوٹنے سے بالکل مایوسی ہو، چھوٹے اورٹھنڈے ایام میں بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہیں تو ایسی صورت میں قضاء شدہ اور آنے والے فرض روزوں کا فدیہ دینا ہوگا اور ایک روزے کے عوض میں ایک صدقة الفطر کی رقم کے برابر کسی مسکین کو دینا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی