بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیعت کا اہل کون ہے او رکون نہیں؟

بیعت کا اہل کون ہے او رکون نہیں؟

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام او رمفتیان دین قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ بیعت کے بارے میں کہ:

بیعت کس کی کی جائے؟ جو شخص ایک دفعہ بیعت کر لے تو کیا وہ دوبارہ دوسری جگہ بیعت کر سکتا ہے؟ جس کی بیعت کی جائے اگر وہ شریعت کے تابع نہ ہو یا وہ کسی کبیرہ گناہ میں مبتلا ہو، مثلاً زنا کاری وشراب نوشی وغیرہ میں تو اس کی بیعت کی حیثیت کیا ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ جس پیر سے بیعت کی جائے، اس کے اندر مندرجہ ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے:

متقی پرہیزگار ہو، یعنی تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے بچنے والا ہو۔ الله کی معرفت حاصل ہو۔ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔ الله کے احکامات ،نبی صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں کا پابند ہو اور بدعتی نہ ہو۔نفسانی خواہشات سے دور ہو۔ اچھے اخلاق سے مزّین ہو، بد اخلاقی سے دور ہو۔کسی الله والے کی طرف سے اسے بیعت کرانے کی اجازت ہو۔

جس شخص نے ایک پیر سے بیعت کی ہو تو اس کے لیے دوسری جگہ بیعت کرنا مناسب نہیں، إلایہ کہ پہلا پیر شرع کا پابند نہ ہو۔

اگر فاسق پیر سے بیعت کر لی ہو، تو اس بیعت کو ختم کر دے اور اس کی صحبت سے دور رہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی