بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بی، سی کمیٹی کی شرعی حیثیت کا حکم

بی، سی کمیٹی کی شرعی حیثیت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کہ بارے میں ایک شخص نے کمیٹی کی ترتیب چلائی ہوئی ہے، ہر مہینے کے شروع میں چند لوگوں سے پیسے لیتا ہے او رمہینے کے آخر میں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے، جس کا قرعہ نکل آئے، اس کو پیسے دیتا ہے اور جس کا قرعہ نکل چکا ہو وہ بھی آخری قرعہ اندازی تک پیسے جمع کرواتا رہتا ہے۔

مذکورہ بالا صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے چند باتیں مطلوب ہیں:
1..مذکورہ ترتیب کے مطابق کمیٹی شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
2..اس آدمی نے جو پیسے جمع کیے ہیں ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی یہ کمیٹی چلانے والا شخص مہینے کے درمیان میں کیا ان ”کمیٹی کے“ پیسوں کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے؟
3..اس طرح کمیٹی چلانے کے لیے کیا کیا شرائط ہیں؟ وہ بھی تحریر فرما دیجیے!

جواب

1.. واضح رہے کہ کمیٹی کی مذکورہ صورت جائز ہے ، بشرطیکہ کمیٹی کے افراد میں سے جو جب نکلنا چاہے اسے نکلنے کی اجازت ہو اور اس پر کوئی جرمانہ نہ ہو او راس کی رقم ضبط نہ کی جائے۔

2..منتظم کمیٹی بحیثیت وکیل ہوتا ہے، اس کا قبضہ بطور امانت ہے، لہٰذا اگر وہ رقم اس کے پاس اس کی تعدی کے بغیر ضائع ہو جائے تو اس پر ضمان لازم نہیں ہو گا او راس رقم کو استعمال کرنا درست نہیں، اگر استعمال کرے گا تو اس کا ضمان لازم ہو گا۔

3..مروجہ کمیٹی (بی، سی) کی شرعی حیثیت قرض کے لین دین کی ہے، اس لیے اس کے جواز کے لیے دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے :۱۔ سب شرکاء کی رضا مندی سے بلا قرعہ یا بذریعہ قرعہ (پرچی نکال کر) کسی شریک کو وہ رقم بطور قرض دی جائے ۲۔ شرکاء میں سے ہر شریک کو ہر وقت اس کمیٹی سے جدا ہو جانے کا اختیار حاصل ہو اور اُسے اپنی دی ہوئی پوری رقم واپس لینے کا پورا حق ہو، اس پر کسی شریک کو اعتراض نہ ہو اور نہ اس کی رقم میں کوئی کٹوتی ہو۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی