بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بھابھی کو اپنے دیور سے پردہ کرنے کا حکم

بھابھی کو اپنے دیور سے پردہ کرنے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک طالب علم ہے جو مدرسے میں رہائش پذیر ہو کر پڑھتا ہے،وہ طالب علم جس گھر میں رہتا ہے وہ چھوٹا گھر ہے، اس گھر میں اس کے والدین اور اس کا بڑا بھائی (جو کہ شادی شدہ ہے)، اس کی بیوی اور اس کے تین بچے بھی اسی گھر میں رہتے ہیں، ہمارے خاندان میں بھابی سے پردہ نہیں کیا جاتا ہے ، بلکہ اس کی عزت واحترام کیا جاتا ہے اور ماں جیسا رشتہ ہوتا ہے ،مگر جب طالب علم کو پتہ چلا کہ دیور کو بھابھی سے پردہ کرنا ہوتا ہے شریعت کی رو سے تو طالب علم کو تشویش ہو گئی کہ آیا وہ گھر جائے تو پردہ نہیں کرسکتا ہے او راگر نہیں جاتا ہے تو قطع رحمی ہوتی ہے، اور پھر والدین کو کس طرح چھوڑ سکتا ہے؟ اس لیے مہربانی فرماکر راہ نمائی کر دیں کہ شریعت اس طرح کی صورت میں کیا حکم دیتی ہے؟

جواب

 احادیث مبارکہ میں رسول صلی الله علیہ وسلم نے دیور سے پردہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے، اس لیے بھابھی کو اپنے دیور سے پردہ کرنا ضرور ی ہے۔

صورت مسئولہ میں بھابھی کو مذکورہ طالب علم (دیور)سے پردہ کرنا لازم اور ضروری ہے، لیکن اس کی وجہ سے طالب علم گھرجانا اور والدین سے ملنا نہ چھوڑے، اس لیے کہ اسلام مل جل کر رہنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ شرعی حدود کا مکمل خیال رکھا جائے ، اس لیے مذکورہ طالب علم گھر بے شک جائے، گھر میں داخل ہوتے وقت دروازہ کھٹکھٹا کر، یا گلا کھنکار کر، یا کسی اور طریقے سے اپنی آمد کی اطلاع کر لے، تاکہ گھر کی خواتین اپنی حالت درست کر لیں، اور اپنی نظروں کو جھکائے رکھیں، اگر غلطی سے نگاہ پڑ جائے تو فوراً نظر ہٹالیں، بقدر ضرورت بھابی سے بات کرسکتے ہیں، ضرورت کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی ہنسی مذاق کریں اور خلوت سے بھی اجتناب کریں۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی